Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulema-E-Hind

جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشدمدنی نے ملک کے موجودہ سیاسی اورسماجی حالات پرسخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ایک دومسائل ہوں توانہیں بیان کیا جائے، یہاں تو مسائل کا ایک انبارہے، ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتاکہ دوسراپیدا کردیا جاتا ہے، ایک تنازعہ ٹھنڈا نہیں ہوتاکہ دوسرا تنازعہ کھڑا کردیا جاتا ہے۔

اتراکھنڈ کی دھامی حکومت کو6 ہفتے کے اندرجواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مدرسوں کو بند کرنے کی مہم، مسلمانوں کو آئینی اختیارسے محروم کردینے کی ایک بڑی سازش ہے۔

چیف جسٹس اتراکھنڈہائی کورٹ جی نریندر اورجسٹس آلوک مہرا نے سینئر ایڈوکیٹ کی درخواست کو قبول کرتے ہو ئے مقدمہ کی سماعت 23 ستمبرکوکئے جانے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کوبھی حکم دیا کہ وہ اگلی سماعت سے قبل جمعیۃ علماء ہند ودیگرکی پٹیشن پراپنا جواب داخل کرے۔

گزشتہ دنوں فلم کے پروڈیوسرامت جانی کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن پرسپریم کورٹ آف انڈیا کی دورکنی بینچ کے جسٹس سوریہ کانت اورجسٹس جوئی مالیا باگچی نے سماعت کی تھی اوراس مقدمہ کودوبارہ دہلی ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔

این آئی اے کورٹ نے مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکرسمیت تمام 7 ملزمین کوبری کر دیا ہے۔ اب جمعیۃ علماء ہند نے اس فیصلے کوہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اگست کے پہلے ہفتے میں بامبے ہائی کورٹ میں اپیل دائرکرے گی۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے، جس میں تحریر ہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات نے ان کی سرٹیفکیٹ پر نظرثانی کی درخوست پرفیصلہ صادر کرتے ہوئے فلم سے مزید 6 سین کٹ کئے جانے کی فلم پروڈیوسرکو ہدایت دی ہے۔

سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت سے گزارش کی کہ عدالت ان تمام عرضداشتوں کودہلی ہائی کورٹ کومنتقل کرسکتی ہے۔ منسٹری آف براڈ کاسٹنگ کے فیصلے کو ہم وہاں چیلنج کریں گے۔ فلم پروڈیوسرکی نمائندگی کرنے والے وکیل گوروبھاٹیا نے کہا کہ یہ جوعدالت میں ہورہا ہے نہایت عجیب ہے، ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے۔ میں اپنی درخواست واپس لیتا ہوں، لیکن مولانا ارشد مدنی فلم پراسٹے کی گزارش کیسے کرسکتے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی کی دعوت پر بدھ کی شام دہلی کے شنگریلا ہوٹل میں مختلف سیاسی پارٹیوں بالخصوص کانگریس پارٹی، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی، بیجوجنتا دل، ڈی ایم کے، آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ کے سرکردہ ممبران پارلیمنٹ جمع ہوئے۔

فلم پروڈیوسر کی قیادت کر رہے ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا نے سپریم کورٹ کے جج سے کہا کہ فلم 12 جولائی کو ریلیز ہونی تھی۔ اس کے لئے سبھی تھیئیٹرس بُک کرلئے گئے ہیں، سبھی تھیئیٹر مالک انتظار کر رہے ہیں۔

فلم پروڈیوسر کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا کی درخواست پر جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پر سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔