Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulema-E-Hind

چیف جسٹس اتراکھنڈہائی کورٹ جی نریندر اورجسٹس آلوک مہرا نے سینئر ایڈوکیٹ کی درخواست کو قبول کرتے ہو ئے مقدمہ کی سماعت 23 ستمبرکوکئے جانے کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے مرکزی حکومت کوبھی حکم دیا کہ وہ اگلی سماعت سے قبل جمعیۃ علماء ہند ودیگرکی پٹیشن پراپنا جواب داخل کرے۔

گزشتہ دنوں فلم کے پروڈیوسرامت جانی کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن پرسپریم کورٹ آف انڈیا کی دورکنی بینچ کے جسٹس سوریہ کانت اورجسٹس جوئی مالیا باگچی نے سماعت کی تھی اوراس مقدمہ کودوبارہ دہلی ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔

این آئی اے کورٹ نے مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکرسمیت تمام 7 ملزمین کوبری کر دیا ہے۔ اب جمعیۃ علماء ہند نے اس فیصلے کوہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اگست کے پہلے ہفتے میں بامبے ہائی کورٹ میں اپیل دائرکرے گی۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے دہلی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے، جس میں تحریر ہے کہ وزارت اطلاعات ونشریات نے ان کی سرٹیفکیٹ پر نظرثانی کی درخوست پرفیصلہ صادر کرتے ہوئے فلم سے مزید 6 سین کٹ کئے جانے کی فلم پروڈیوسرکو ہدایت دی ہے۔

سینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت سے گزارش کی کہ عدالت ان تمام عرضداشتوں کودہلی ہائی کورٹ کومنتقل کرسکتی ہے۔ منسٹری آف براڈ کاسٹنگ کے فیصلے کو ہم وہاں چیلنج کریں گے۔ فلم پروڈیوسرکی نمائندگی کرنے والے وکیل گوروبھاٹیا نے کہا کہ یہ جوعدالت میں ہورہا ہے نہایت عجیب ہے، ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا ہے۔ میں اپنی درخواست واپس لیتا ہوں، لیکن مولانا ارشد مدنی فلم پراسٹے کی گزارش کیسے کرسکتے ہیں۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے دوران جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی کی دعوت پر بدھ کی شام دہلی کے شنگریلا ہوٹل میں مختلف سیاسی پارٹیوں بالخصوص کانگریس پارٹی، سماج وادی پارٹی، ٹی ایم سی، بیجوجنتا دل، ڈی ایم کے، آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ کے سرکردہ ممبران پارلیمنٹ جمع ہوئے۔

فلم پروڈیوسر کی قیادت کر رہے ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا نے سپریم کورٹ کے جج سے کہا کہ فلم 12 جولائی کو ریلیز ہونی تھی۔ اس کے لئے سبھی تھیئیٹرس بُک کرلئے گئے ہیں، سبھی تھیئیٹر مالک انتظار کر رہے ہیں۔

فلم پروڈیوسر کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا کی درخواست پر جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پر سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند ملک گیر بیداری مہم کا آغاز کرے گی، خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں رضا کار اور علماء دیہاتوں اور شہری بستیوں کا دورہ کریں گے تاکہ مسلمانوں کو مردم شماری میں اپنی ذات صحیح درج کرنے میں رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ مدراس مسلمانوں کی پہچان ہیں اور ہم اپنی اس پہچان کو مٹنے نہیں دیں گے۔ ’تحفظ مدارس کنونشن‘ میں انہوں نے کہا کہ مدارس سے ہی ملک کو غلامی سے آزاد کرانے کی پہلی آواز اٹھی تھی، لیکن سازش کے تحت اب اسے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔