Bharat Express DD Free Dish

Jamiat Ulema-E-Hind

جمعیۃعلماء ہند نے اعظم گڑھ کے سرائے میر میں ’کل ہند تحفظ مدارس کنونشن‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس میں مسالک سے بالاتر ہو کر مدارس کے ذمہ داران کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جمعیۃعلماء ہند اس کے خلاف قانونی جدوجہد کررہی ہے اورتحفظ مدارس کنونشن کا انعقاد کرکے مدارس کے تمام ذمہ داران کے اتفاق رائے سے مدرسوں کے تحفظ کے لئے ایک جامع اورمؤثرحکمت عملی بھی تیارکرنے کی کوشش کی جائے گی۔

عدالت کی جانب سے متعین کی گئی پانچ پٹیشن میں مولانا ارشد مدنی کی پٹیشن کا پہلا نمبر ہے، جس پرسینئرایڈوکیٹ کپل سبل نے آج بحث کی۔ اگلی سماعت پرعدالت وقف ترمیمات پرعبوری اسٹے کے تعلق سے ہی سماعت کرے گی، اس بات کا خلاصہ چیف جسٹس گوئی نے آج دوران سماعت کیا۔

مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ’’ہندستان ہمارا وطن ہے، اس کا دفاع ہماری قومی اورآئینی ذمہ داری ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ حب الوطنی، امن اوراتحاد کا پیغام دیا ہے اورآج جبکہ ہماری سرحدوں پرخطرہ منڈلا رہا ہے، ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔‘‘

جمیعۃ علماء ہند کے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ اگر حکومت عدالت کو دی گئی یقین دہانیوں پر قائم رہتی ہے تو معاملے کو ہونے والے نئے چیف جسٹس کی صدارت والی بنچ کو سونپے جانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی کا کہنا ہے کہ ہندوستان اورپاکستان دونوں ایٹمی ملک ہیں، لیکن لڑائی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے حالات میں ہندوستان کے روپئے کی قیمت زمین پرآجائے گی۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مندوبین کو پیغام دیا کہ ملک میں امن امان قائم کرنے کے لئے ہم سبھی کو کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے ارباب مدرسہ اور جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ پیارومحبت کے پیغام کوآگے بڑھائیں اور ہندو مسلم کے درمیان بھائی چارہ کو قائم کریں۔

مولانا مدنی نے پہلگام واقعہ کے بعد ملکی میڈیا کی طرف سے اسے مذہبی رنگ دینے کی خطرناک سازش کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مقامی لوگوں نے مذہب سے بالاتر ہو کر حملے کے دوران اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دہشت گردوں سے سیاحوں کو بچایا۔

جمعیۃ علماء ہند کی دوروزہ کانفرنس 4-3 مئی کونئی دہلی میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔ اس میں وقف ایکٹ، پہلگام دہشت گردانہ حملہ، بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی اورآئین کا تحفظ جیسے اہم مسائل شامل ہیں۔ کانفرنس میں ملک بھرسے نمائندے شرکت کریں گے اورآئندہ کی حکمت عملی پرتبادلہ خیال کریں گے۔

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ اس سانحے کو مذہب رنگ دینا غلط ہے۔ مرنے والوں میں نہ صرف ایک مسلمان شامل ہے بلکہ وہاں سے جوخبریں آرہی ہیں ان کے مطابق حملوں کے دوران مقامی لوگوں نے اپنی جان پر کھیل کربہت سے سیاحوں کو بچایا اورزخمیوں کو اسپتال پہنچایا۔ حملے کے بعد دیرتک وہاں کوئی سرکاری امداد نہیں پہنچی، زخمیوں کواسپتال پہنچانے کے لئے وہاں کوئی گاڑی بھی نہیں تھی۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ نئے قانون کے جن نکات پرسخت اعتراض تھا، وکلاء کی پوری بحث انہیں نکات پرمرکوزرہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دفعات وقف جائیداد کے لئے بہت ہی تباہ کن ہیں، لیکن افسوس کہ ہماری بات نہیں سنی گئی۔