Bharat Express DD Free Dish

Education Ministry

امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات کی تیاری، سکیورٹی مضبوط بنانے اور پیپر لیک و سائبر چھیڑ چھاڑ روکنے پر زور دیا گیا۔

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت کے لیے ملک اور نوجوان سب سے زیادہ اہم ہیں اور پیپر لیک کے معاملے میں سخت کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے دھرمیندر پردھان کی بطور وزیر تعلیم خدمات اور اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مفادات پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پراہلاد جوشی مرکزی حکومت کے سینئر وزرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ اس وقت وزارتِ امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم اور نئی و قابلِ تجدید توانائی کی وزارت کی ذمہ داریاں بھی سنبھال رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ پارلیمانی امور، کوئلہ اور کان کنی جیسی اہم وزارتوں کی قیادت کر چکے ہیں۔

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی کے کارکنان کے لئے عہدے سے کہیں زیادہ اہم ملک، ہماری نوجوان پیڑھی اور طالب علم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ملک کے نوجوانوں کا احترام کرتی ہے اور پیپر لیک کے خلاف سدھار کے لئے پابندعہد ہے۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ پرکہا کہ انہیں جانا ہی تھا۔ انہوں نے کہا، ’’پردھان ایک علامت ہیں- بدعنوانی کی علامت، تعلیمی نظام کی بربادی کی علامت، نااہلی کی علامت۔ انہیں جانا ہی تھا اور اچھا ہوا کہ وہ چلے گئے۔‘‘

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے 24 گھنٹوں کے دوران چھٹا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ این ٹی اے ہی نیٹ-یو جی امتحان کا انعقاد کرتی ہے۔ اس سال مئی میں پیپر لیک کے بعد امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا اور جون میں دوبارہ امتحان منعقد کیا گیا۔

 نیٹ امتحان پیپرلیک سے متعلق پورے ملک میں ہو رہے احتجاج سے حکومت بیک فٹ پر نظر آرہی ہے۔ اسی ضمن میں وزارت تعلیم آج رات 8 بجے بڑا اعلان کرنے والی ہے۔ اس سے طلبا کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر بھی جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی کا حکم دینے والے اور اسے نافذ کرنے والے، دونوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے یہ بیان جاری کیا کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات گردش کر رہی ہیں کہ گیتانجلی نامی 12 سالہ بچی پر حملہ کیا گیا، اس کے بال کھینچے گئے، اس کے سر میں چوٹ لگی اور تقریباً 40 سے 50 دیگر افراد کے سر پھوڑ دیے گئے۔ پولیس نے کہا ہے کہ یہ معلومات غلط ہیں۔

اڈانی گروپ اور وزارتِ تعلیم کے انڈین نالج سسٹمز (IKS) نے اِنڈولوجی کی بحالی کے لیے ایک بڑی ملک گیر  سطح کی مہم کا آغاز کیا ہے، جو تحقیق، وراثتی تحفظ اور بھارت کی تہذیبی علمیت کی حمایت کرے گی۔