Bharat Express DD Free Dish

Prof. Mazhar Asif

نمائش میں پندرہویں صدی سے لے کربیسویں صدی کے اوائل تک کے 35 نادر اور سائنسی طورپر محفوظ قرآنی نسخے پیش کئے گئے، جومتنوع اسلامی خطاطی کی روایات اورفنی جمالیات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ساتویں سے چودہویں صدی تک قرآنی خطاطی کے ارتقا کی کہانی بیان کرنے والے کیوریٹڈ پوسٹرز کا ایک سلسلہ بھی نمائش میں رکھا گیا، جو زائرین کو قرآنی رسم الخط کے اسلوب کی تاریخی ترقی کے بارے میں جامع بصیرت فراہم کرتا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا 105واں یومِ تاسیس: ”مہاتما گاندھی کا سوراج“ پر بامعنی مذاکرہ، دوردرشن کے ڈائریکٹر جنرل کے ستیش نمبودری پاد مہمانِ خصوصی رہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسٹاف کو رجسٹرار پروفیسر مہتاب عالم رضوی نے یونیورسٹی کے سنجیدہ و باوقار ماحول کو برقرار رکھنے کے تئیں صفائی ملازمی`ن کے عہد اور ان کی انتھک کوششوں کو سراہا۔

قومی اردوکونسل کے زیراہتمام ’ویرساورکراورتقسیمِ ہند کا المیہ‘ کا اجرا عمل میں آیا۔ اس کتاب کا اردوترجمہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلرپروفیسرمظہرآصف نے کیا ہے۔ اودے ماہورکرنے ویرساورکرکی شخصیت اورافکارکا غیرجانبدارانہ مطالعہ کرنے کی ضرورت قراردیا۔

جے این یونے مسلسل 9ویں سال این آئی آرایف رینکنگ 2025 میں نمبر-2 پوزیشن کوبرقراررکھا۔ وہیں دہلی یونیورسٹی نے چھٹے سے پانچویں مقام پرچھلانگ لگائی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کیٹیگری میں ایک مقام نیچے کھسک گئی۔

شیخ الجامعہ اور مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ نے یونیورسٹی کو پورا تعاون دینے اور ان کی تجویزکو باحسن طریق لینے کے لیے وزیر مملکت ڈاکٹر سوکانتا مجمدار کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

یونیورسٹی کے مستقبل کی ترقی کے لیے کاروباری اور منصوبہ بند روڈ میپ کی تعریف کرتے ہوئے، مرکزی وزیربرائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے 105 سال پرانی سنٹرل یونیورسٹی کو قومی اور عالمی تعلیم کا مرکز بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر تجاویز کے لیے اپنی مکمل حمایت کی۔

پروگرام کے مہمان خصوصی مدھوپ کمارتیواری،،آئی پی ایس (اسپیشل کمشنرآف پولیس،لا اینڈ آرڈر، دہلی) نے اس تناظرمیں کہ سال بہ سال سول سروسزکے امتحانات مشکل سے مشکل ترہوتے جارہے ہیں، اپنی تقریرمیں منتخب امیدواروں کی دلجمعی اوران کے استقلال کی تعریف کی۔

پروفیسرمظہرآصف نے صدرجمہوریہ ہند کواقلیتوں کی تعلیم، قومی ہم آہنگی اورسماجی ہم آہنگی کے فروغ کے حوالے سے اپنی تجاویزپیش کیں اوران پرعمل درآمد کی ضرورت پرزوردیا۔ انہوں نے صدرجمہوریہ کواپنے جاری تحقیقی منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔

ایران کے سفیر کبیر ڈاکٹر ایرج الٰہی نے کہا کہ ہندوایران کے سیاسی، سماجی اورعلمی تعلقات زمانہ قدیم سے ہیں، یہ دونوں ملک ساتھ رہے ہیں اورہمیشہ دنیا کے سامنے اپنی مشترکہ علمی میراث کوپیش کرتے رہے ہیں۔