Bharat Express DD Free Dish

Jamia Millia Islamia

احتجاج میں شامل طالبہ خدیجہ جاہوا نے بتایا کہ جمعرات کو یونیورسٹی انتظامیہ نے مطالبات مان لیے تھے، لیکن اگلے دن صبح نہ تو ناشتہ فراہم کیا گیا اور نہ ہی دوپہر کے وقت کھانا دیا گیا۔ایک دیگر طالبہ نے کہا کہ 2023 میں بھی اسی وینڈر کے خلاف ناقص معیار کا کھانا فراہم کرنے کو لے کر احتجاج کیا گیا تھا۔

ہاسٹل میں انتہائی خراب کھانا دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل شکایات کے باوجود ڈپٹی پراکٹر نکہت اور وارڈن کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر دھمکایا گیا۔ طالبات کے والدین نے جب ڈپٹی پراکٹر نکہت کو فون کیا تو انہیں بھی دھمکانے کا الزام ہے۔انہوں نے بتایا کہ طالبات نے صبح دھرنا شروع کیا، جو تقریباً 4 سے 5 گھنٹے تک جاری رہا۔

مظاہرے میں شامل طلبہ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد جائز تنقید کو روکنا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سنگین الزامات کو حقائق کے طور پرپیش کیے جانے سے قبل ان کی سچائی کی جانچ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقرری، ترقی اور انتظامی فیصلوں جیسے معاملات یونیورسٹی کے مقررہ قواعد اور قانونی طریقۂ کار کے تحت آتے ہیں اور ان کے بارے میں شکایت کے لیے مناسب ادارہ جاتی فورم موجود ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ اس وقت جس نئی انتظامی فعالیت اور ادارہ جاتی رفتار کے مرحلے سے گزر رہی ہے، اس میں وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی قیادت اہم ہے۔ وائس چانسلر کے اہم فیصلوں میں سے ایک جامعہ کے رجسٹرار جیسے کلیدی عہدے کی ذمہ داری پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کو سونپنا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ فیصلہ اپنی معنویت کو مزید واضح کرتا گیا ہے۔ پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نومبر 2024 سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔

وفد نے شکایت کے ساتھ مبینہ قابل اعتراض پوسٹس کے اسکرین شاٹس، مبینہ جعلی سرکلرز، مبینہ غیرمجاز چندہ جمع کرنے سے متعلق ریکارڈ اور نامزد افراد کے خلاف سابقہ تادیبی احکامات سمیت مختلف دستاویزات بھی پیش کیں۔ مشترکہ شکایت میں مبینہ ہتکِ عزت، مجرمانہ سازش، شہرت کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے جعل سازی اور دانستہ توہین سے متعلق متعلقہ فوجداری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی قوانین کے تحت ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

شکایت کنندہ کے مطابق، دستیاب دستاویزات تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ تجربے، اور سروس کی تفصیلات کے حوالے سے کچھ تضادات کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان تضادات کی تصدیق کے لیے، شکایت کنندہ نے رضوی کی اصل درخواست، سی وی، تجربہ سرٹیفکیٹ، ڈگریاں، مارک شیٹس، اور بھرتی کے وقت اس کے ذریعہ جمع کرائے گئے دیگر دستاویزات کو ریکارڈ پر رکھنے اور جانچنے کی کوشش کی ہے۔

اجلاس کو انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے شرکاء نے اعلیٰ تعلیم کے معیار کو مزید بہتر بنانے، تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے، اختراعی منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور ادارہ جاتی ترقی کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔ پروفیسر شاہد اختر نے تعلیمی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی استحکام سے متعلق اہم تجاویز پیش کیں۔

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، دہلی اردو اکادمی، انجمن ترقی اردو ہند کے علاوہ شعبہ اردو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے اداروں سے پروفیسر مظفر حنفی کے صاحبزادے انجینئر فیروز مظفر نے توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد کو جو مقام ومرتبہ ملنا چاہئے تھا، وہ نہیں ملا، اس کا ہمیں ملال ہے۔

اس معاملے پر ابھی تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی آفیشیل ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ سے طلبہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ ایس ایف آئی نے اپنے بیان میں یونیورسٹی انتظامیہ کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کی اجازت دینا ’’براہِ راست اشتعال انگیزی‘‘ ہے۔ 

یوپی ایس سی 2027 کی تیاری سے متعلق داخلہ امتحان کے طورپر آل انڈیا انٹرنس ٹسٹ منعقد کیا جائے گا۔ امتحان 6 جون 2026 کو منعقد ہوگا، جس میں دو پیپرشامل ہوں گے۔ پہلا پیپر جنرل اسٹڈیز کا ہوگا جو آبجیکٹیو ہوگا۔