Bharat Express DD Free Dish

Jamia Millia Islamia

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سال 2006 سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کرائے گئے ہیں۔ احتجاج کے درمیان، یونیورسٹی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ طلبہ یونین کا آئین 15 مئی 2027 تک مکمل ہو جائے گا، اور انتخابات 16 جولائی 2027 سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے 6 ہفتوں کے اندرکرائے جائیں گے۔ انتظامیہ نے احتجاج سے متعلق تادیبی کارروائی اورکیمپس پرتمام پابندی ہٹانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا نے تمام مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے 18 دنوں تک احتجاج جاری رکھا، جس کے بعد انتظامیہ نے ان کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے۔ طلبا نے پوری رات جشن منایا اور اسے تاریخی جیت قرار دیا۔ وہیں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 2000 سے زائد تدریسی اور غیرتدریسی عملہ نے شرکت کی، یونیورسٹی کے اساتذہ اورعملہ نے طلبہ یونین انتخابات کے مسئلے کوخوش اسلوبی سے حل کرنے پرجامعہ انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

یومِ تاسیس کے موقع پر ایک طرف جامعہ انتظامیہ نے تقریب منعقد کی، تو دوسری جانب طلبہ نے گیٹ نمبر 7 کے قریب غالب لان میں علامتی جشن منایا۔ سردیوں کی تعطیلات تک کلاسیں بند کرنے، امتحانات آن لائن کرنے اور ہاسٹل خالی کرنے کے احکامات کے بعد طلبہ کی ناراضگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

کیمپس کے حالات اور طلبہ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ نے 24 نومبر 2026 تک تمام کلاسیں آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ سمسٹر کے امتحانات بھی آن لائن منعقد کیے جائیں گے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب وجوارمیں بڑی تعداد میں پیراملٹری فورسیز اور دہلی پولیس کے جوانوں کو تعینات کردیا گیا۔ ساتھ ہی کئی طلبا کوپولیس نے حراست میں بھی لے لیا اور ان کو نامعلوم جگہ پرلے جایا گیا، جس میں این ایس یو آئی جامعہ یونٹ کے صدر فیضان علی خان سمیت کئی دیگر طلبا شامل ہیں۔

یونیورسٹی کے مطابق، طلبا نے انتظامیہ کے خلاف اپنے مبینہ ہتک آمیزبیانات پرعوامی طورپرمعافی مانگنے اوراپنی سوشل میڈیا پوسٹس کوہٹانے پررضامندی ظاہرکی۔ تاہم، احتجاج کرنے والے طلبا نے انتظامیہ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکیا۔ طلبا کا کہنا ہے کہ ان کا 16 روزہ احتجاج ان کے تمام مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

امعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے احتجاج سے متعلق اپنے خدشات کا اعادہ کرتے ہوئے پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوری شرکت، تنقیدی فکراورقیادت کوفروغ دے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے ممتازعلمی ورثے کے ساتھ ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے، اسے چاہئے کہ لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق طلبہ کوجمہوری نمائندگی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے۔ ہم جامعہ انتظامیہ پرزوردیتے ہیں کہ وہ اپنی یقین دہانیوں کو واضح، ٹھوس اورمقررہ مدت کے اندرعمل میں لائے اورسیکورٹی اہلکاروں کے طرزِعمل کے حوالے سے جواب دہی کویقینی بنائے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات 2006 کے بعد سے نہیں ہوئے ہیں۔ طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پرگزشتہ تقریباً دوہفتوں سے احتجاج جاری تھا۔ مظاہرین جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین (جے ایم آئی ایس یو) کو بحال کرنے اورانتخابات کرانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس مطالبے سے متعلق4 طلبہ غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال پربھی بیٹھے تھے۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے واضح فیصلہ اورانتخابات کرانے کا وقت مقررکیا جانا چاہئے۔

آن لائن کلاسوں سے متعلق جاری ہدایت میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا سے کیمپس نہ آنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ جامعہ کے گیٹ اورلائبریری اگلے حکم تک بند رہیں گے۔ طلبا کا یہ احتجاج تقریباً دو ہفتے قبل شروع ہوا تھا۔ مظاہرین جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی اور طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ جامعہ میں 2006 کے بعد سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔

14 روزہ احتجاج ختم کرنے سے طلبہ کا انکار، طلبہ یونین کی بحالی اور انتخابات کی تاریخ طے کرنے کا مطالبہ، بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ بھی احتجاج جاری رکھیں گے۔ انتظامیہ نے آئین کی منظوری کے 15 دن بعد انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔