Bharat Express DD Free Dish

Jamia Millia Islamia

جامعہ انتظامیہ نے طلبہ کے تین اہم مطالبات پر اتفاق کیا ہے۔ پہلا مطالبہ طلبہ یونین کے انتخابات بحال کرنے سے متعلق تھا۔ انتظامیہ کے مطابق، اسٹوڈنٹ یونین کی تشکیل کی منظوری کی تاریخ سے 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔طلبہ کا دوسرا مطالبہ احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف کی گئی کارروائیوں کو منسوخ کرنے سے متعلق تھا۔

کانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ہم سب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جامعہ انتظامیہ لاٹھی کے زور سے طلبہ کی آواز کو نہیں دباسکتی ہے۔ انہوں نے زوردے کر کہا کہ جامعہ میں طلبہ یونین کی بحالی ہونے تک یہ لڑائی جاری رہے گی۔

کمیٹی احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کا جائزہ لے کر کیمپس میں معمولات بحال کرنے کے لیے اقدامات تجویز کرے گی۔ وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی صدارت میں اعلیٰ حکام کی میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست ملاقات اور کاروباری و ڈسٹری بیوشن کے امکانات پر گفتگو کا موقع ملے گا۔ ڈاکٹروں اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کو بھی مختلف مصنوعات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور پروڈکٹ سیمپلز دیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

احتجاج میں شامل طالبہ خدیجہ جاہوا نے بتایا کہ جمعرات کو یونیورسٹی انتظامیہ نے مطالبات مان لیے تھے، لیکن اگلے دن صبح نہ تو ناشتہ فراہم کیا گیا اور نہ ہی دوپہر کے وقت کھانا دیا گیا۔ایک دیگر طالبہ نے کہا کہ 2023 میں بھی اسی وینڈر کے خلاف ناقص معیار کا کھانا فراہم کرنے کو لے کر احتجاج کیا گیا تھا۔

ہاسٹل میں انتہائی خراب کھانا دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مسلسل شکایات کے باوجود ڈپٹی پراکٹر نکہت اور وارڈن کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر دھمکایا گیا۔ طالبات کے والدین نے جب ڈپٹی پراکٹر نکہت کو فون کیا تو انہیں بھی دھمکانے کا الزام ہے۔انہوں نے بتایا کہ طالبات نے صبح دھرنا شروع کیا، جو تقریباً 4 سے 5 گھنٹے تک جاری رہا۔

مظاہرے میں شامل طلبہ نے واضح کیا کہ ان کا مقصد جائز تنقید کو روکنا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سنگین الزامات کو حقائق کے طور پرپیش کیے جانے سے قبل ان کی سچائی کی جانچ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تقرری، ترقی اور انتظامی فیصلوں جیسے معاملات یونیورسٹی کے مقررہ قواعد اور قانونی طریقۂ کار کے تحت آتے ہیں اور ان کے بارے میں شکایت کے لیے مناسب ادارہ جاتی فورم موجود ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ اس وقت جس نئی انتظامی فعالیت اور ادارہ جاتی رفتار کے مرحلے سے گزر رہی ہے، اس میں وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی قیادت اہم ہے۔ وائس چانسلر کے اہم فیصلوں میں سے ایک جامعہ کے رجسٹرار جیسے کلیدی عہدے کی ذمہ داری پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کو سونپنا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ فیصلہ اپنی معنویت کو مزید واضح کرتا گیا ہے۔ پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نومبر 2024 سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رجسٹرار کی ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔

وفد نے شکایت کے ساتھ مبینہ قابل اعتراض پوسٹس کے اسکرین شاٹس، مبینہ جعلی سرکلرز، مبینہ غیرمجاز چندہ جمع کرنے سے متعلق ریکارڈ اور نامزد افراد کے خلاف سابقہ تادیبی احکامات سمیت مختلف دستاویزات بھی پیش کیں۔ مشترکہ شکایت میں مبینہ ہتکِ عزت، مجرمانہ سازش، شہرت کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے جعل سازی اور دانستہ توہین سے متعلق متعلقہ فوجداری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی قوانین کے تحت ایف آئی آردرج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

شکایت کنندہ کے مطابق، دستیاب دستاویزات تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ تجربے، اور سروس کی تفصیلات کے حوالے سے کچھ تضادات کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان تضادات کی تصدیق کے لیے، شکایت کنندہ نے رضوی کی اصل درخواست، سی وی، تجربہ سرٹیفکیٹ، ڈگریاں، مارک شیٹس، اور بھرتی کے وقت اس کے ذریعہ جمع کرائے گئے دیگر دستاویزات کو ریکارڈ پر رکھنے اور جانچنے کی کوشش کی ہے۔