نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ نے طلبہ کی بھوک ہڑتال اور احتجاج کے درمیان ان کی شکایات اور مطالبات پر غور کرنے کے لیے سات رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، کمیٹی احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کرے گی، ان کے مطالبات کا جائزہ لے گی اور کیمپس میں معمولات کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات تجویز کرے گی۔ یہ فیصلہ 18 اکتوبر کو یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کی میٹنگ کے بعد کیا گیا۔ میٹنگ میں وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف، رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، کنٹرولر امتحانات پروفیسر احتشام الحق، مختلف فیکلٹیوں کے ڈین، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر، ڈین اکیڈمک افیئرز، چیف پراکٹر اور ہاسٹل کے پرووسٹ سمیت دیگر عہدیدار شریک ہوئے۔ یونیورسٹی نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات پر غور کرنے اور ان سے رابطہ قائم کرنے کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے، تاکہ مسئلے کا حل نکالا جاسکے اور کیمپس میں تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق بحال ہوں۔
کمیٹی میں سات سینئر اساتذہ اور عہدیدار شامل
رجسٹرار کی جانب سے جاری دفتری حکم نامے کے مطابق، کمیٹی میں سات سینئر اساتذہ اور یونیورسٹی کے عہدیداروں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز کے ڈین پروفیسر اقتدار محمد خان، فیکلٹی آف لائف سائنسز کے ڈین پروفیسر لقمان احمد خان اور فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین پروفیسر زبیر مینائی شامل ہیں۔ کمیٹی کے دیگر اراکین میں ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر پروفیسر نیلوفر افضل، ڈین اکیڈمک افیئرز پروفیسر تنوجا، شعبۂ الیکٹریکل انجینئرنگ کی پروفیسر منی ایس تھامس اور شعبۂ انگریزی کی پروفیسر سمی ملہوترا شامل ہیں۔ دفتری حکم نامے کے مطابق، ڈین اسٹوڈنٹس ویلفیئر کمیٹی کی میٹنگ طلب کریں گی اور جلد از جلد اپنی رپورٹ وائس چانسلر کو پیش کریں گی۔
بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر زور
یونیورسٹی نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ کمیٹی احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ بات چیت کا راستہ ہموار کرے گی۔ انتظامیہ نے کہا کہ وہ باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر تعمیری گفتگو اور غور و خوض کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ پریس بیان میں کہا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ احتجاج کرنے والے طلبہ اور دیگر متعلقہ فریقوں سے بھی اسی جذبے کے ساتھ تعاون کی امید رکھتی ہے۔ انتظامیہ نے یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے انتخابات کے دیرینہ معاملے کا خوشگوار حل تلاش کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
2006 سے طلبہ یونین کے انتخابات بند ہونے کا حوالہ
جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بتایا کہ طلبہ یونین کے انتخابات 2006 میں بند کردیے گئے تھے۔ یونیورسٹی کے مطابق، اس وقت بار بار پرتشدد جھڑپوں، اساتذہ پر حملوں اور کلاسوں میں خلل ڈالنے کے واقعات سامنے آنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ یونیورسٹی نے دہلی ہائی کورٹ میں 2022 کی کارروائی کا بھی حوالہ دیا، جس میں اس معاملے کو نمٹا دیا گیا تھا اور یونیورسٹی کو طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ انتظامیہ کے مطابق، یونیورسٹی کے مختلف شعبوں اور مراکز میں سبجیکٹ ایسوسی ایشن کے انتخابات کا نظام موجود ہے۔ اس کے تحت طلبہ رائے شماری کے ذریعے تین عہدیداروں، یعنی نائب صدر، جنرل سکریٹری اور جوائنٹ سکریٹری کا انتخاب کرتے ہیں۔
کیمپس میں امن و ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل
یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ اور دیگر متعلقہ فریقوں سے امن برقرار رکھنے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کیمپس میں امن و ہم آہنگی کو فروغ دینے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے باہمی تعاون ضروری ہے، تاکہ طلبہ، اساتذہ اور عملے کے لیے تعلیمی ماحول سازگار رہے۔ انتظامیہ نے تمام متعلقہ فریقوں اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ 106 سالہ قدیم جامعہ کی ساکھ، شہرت اور قومی و بین الاقوامی درجہ بندی کے تحفظ کے لیے مل کر کام کریں۔ یونیورسٹی میں بھوک ہڑتال اور احتجاج کے دوران کمیٹی کی تشکیل کو طلبہ کے مطالبات پر غور کرنے اور کیمپس میں معمولات بحال کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



