Bharat Express DD Free Dish

Student Protests

کمیٹی احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کا جائزہ لے کر کیمپس میں معمولات بحال کرنے کے لیے اقدامات تجویز کرے گی۔ وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی صدارت میں اعلیٰ حکام کی میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

جے این یو میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کے عمر خالد اور بنگلہ دیشی طلبہ تحریک سے متعلق بیانات پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مظاہروں کے نظریاتی پس منظر کو لے کر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے پیرس سے شروع ہونے والی یہ تحریک اب فرانس کے کئی علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ طلبہ نے سیکڑوں ہائی اسکولوں کے داخلی دروازے بند کردیے۔ فرانس میں طلبہ کی تحریک کے ساتھ سرکاری شعبے کے ملازمین بھی حکومت کے مجوزہ بجٹ منصوبوں کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے کررہے ہیں۔

بہار کانگریس نے سوشل میڈیا پر معلومات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ آج اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بہار کے ان طلبہ اور نوجوانوں سے ملاقات کی جنہوں نے امتحانی نظام میں دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی اور پولیس کا تشدد جھیلا

مہتو نے واضح کیا کہ وہ اپنا علاج بھی نہیں کرائیں گے اور پرامن طریقے سے اپنی بات رکھتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی عوام کے حقوق اور انصاف کے لیے ہے اور پولیس کی کارروائی سے ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

امت شاہ نے اپوزیشن سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوپہر 2 بجے تک اسپیکر کو خط دے دیں، حکومت 3 بجے سے بحث شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ اگلے دن 3 بجے تک تمام سوالات کے جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ اپوزیشن کو کرنا ہے کہ وہ بحث چاہتی ہے یا ہنگامہ۔یہ بیان نیٹ پیپر لیک اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کی مبینہ سخت کارروائی پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان آیا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے پولیس افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) یا کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست مقرر کر دی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق حکومت نے اس بات کا بھی وعدہ کیا کہ دیگر ریاستیں بھی مظاہرین کے تحفظ سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گی۔

نیپال کے عام انتخابات میں راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی) نے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جس کی قیادت 35 سالہ بالیندر شاہ کر رہے ہیں۔ یہ جیت نہ صرف نیپال کی پرانی سیاسی قیادت کے خاتمے کی علامت ہے بلکہ نئی نسل کے نیشنلسٹ اور ٹیکنوکریٹک قیادت کے ابھار کا بھی مظہر ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں نئی دہلی اور کٹھمنڈو کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔