Bharat Express DD Free Dish

Hunger Strike

کمیٹی احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات کا جائزہ لے کر کیمپس میں معمولات بحال کرنے کے لیے اقدامات تجویز کرے گی۔ وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی صدارت میں اعلیٰ حکام کی میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

سونم وانگچک نے دہلی میں مجوزہ سی جے پی احتجاج کے دوران لیڈروں کی گرفتاری پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ صورت حال کو جمہوریت کے لیے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالات ایسے دکھائی دے رہے ہیں جیسے ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہو۔ وانگچک نے گرفتار لیڈروں کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف سکیورٹی آفیسر (CSO) کو یونین دفتر بھیجا۔ JNUSU کے مطابق، CSO نے پہلے سے نافذ رَسٹیکیشن اور ’آؤٹ آف باؤنڈز‘ احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے بھوک ہڑتال کو غیر قانونی قرار دیا اور خبردار کیا کہ احتجاج جاری رکھنے پر رَسٹیکیشن کی مدت بڑھائی جا سکتی ہے۔طلبہ رہنماؤں نے اسے دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے سے متعلق کیمپس میں جاری طلباء کے دھرنے اوربھوک ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ طلباء کے اس مطالبے کو فوری طورپرتسلیم کرتے ہوئے یونین کے انتخابات کرانے کی کارروائی شروع کی جائے۔

مہتو نے واضح کیا کہ وہ اپنا علاج بھی نہیں کرائیں گے اور پرامن طریقے سے اپنی بات رکھتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی عوام کے حقوق اور انصاف کے لیے ہے اور پولیس کی کارروائی سے ان کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے مظاہرین کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج میں شامل نوجوانوں کے خلاف ’’سزا دینے یا بدلے کی کارروائی‘‘ نہیں ہونی چاہیے۔ یقین دہانی نہ ملنے تک غیر معینہ بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان۔

دہلی میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس اور نیٹ پیپر لیک معاملے پر مودی حکومت کے خلاف احتجاجی مارچ کے پیش نظر دہلی پولیس نے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے۔

22 روزہ بھوک ہڑتال کے بعد سونم وانگچک نے انشن ختم کرنے کے لیے حکومت کے سامنے تین بڑی شرائط رکھ دیں۔ انہوں نے تعلیمی نظام، پرچہ لیک کے معاملات، اراکینِ پارلیمنٹ کی یقین دہانیوں اور صفدرجنگ اسپتال میں اپنی مبینہ حراست کے حوالے سے اہم بیان دیا۔

صفدرجنگ اسپتال کے مطابق سونم وانگچک کی حالت فی الحال مستحکم ہے، تاہم 21 روزہ بھوک ہڑتال کے باعث انہیں پانی کی شدید کمی (ڈی ہائیڈریشن) کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی نگرانی کر رہی ہے۔

ان دنوں دہلی کا جنتر منتر ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ 1990 کی دہائی سے پہلے تک دہلی کا بوٹ کلب احتجاجی تحریکوں کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا، لیکن 1988 کی کسان تحریک کے بعد وہاں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد جنتر منتر کو دہلی کا باضابطہ احتجاجی مقام مقرر کیا گیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ ملک بھر کی مختلف تحریکوں اور احتجاجی مظاہروں کا سب سے اہم مرکز بن گیا۔