Bharat Express DD Free Dish

Jamia Millia Islamia

مرکزی وزیردھرمیندرپردھان نے جمعرات کوملک کی یونیورسٹیوں کی فہرست جاری کی۔ اس بار این آئی آرایف نے 16 مختلف زمروں میں ملک بھر کی یونیورسٹیوں اوراداروں کی درجہ بندی کی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ہمدرد، جو ملک کے ممتاز اقلیتی تعلیمی اداروں میں سے ہیں، نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

جامعہ کے وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا ’’یہ جامعہ کے لیے فخر کی بات ہے کہ ہمارے رجسٹرار کو عالمی سطح پر یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ پروفیسر رضوی کی علمی صلاحیتوں، محنت اور لگن نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے، اور یہ اعزاز دراصل پورے جامعہ کا اعزاز ہے۔‘‘

صدر شعبۂ اردو پروفیسرکوثرمظہری نے طلبہ سے کہا کہ تعلیم کا اصل مقصد محض کتابی علم حاصل کرنا نہیں بلکہ باہمی تعاون، یکجہتی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بیداری سے نہ صرف جامعہ بلکہ پورے ملک میں ایک مثبت اور خوشگوار ماحول قائم ہوگا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا عزم ہے کہ وہ سماجی و لسانی حاشیوں پر موجود کمیونٹیز کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے تعلیم اور تحقیق کا مؤثر استعمال کرے۔ یہ گرانٹ نہ صرف جامعہ کے تحقیقی تشخص کو مضبوط کرے گی بلکہ آسام کے چائے باغات میں کام کرنے والے قبائل کے لیے ایک مثبت تبدیلی کی بنیاد بنے گی، جس سے انہیں بااختیار بنانے کی راہ ہموار ہوگی۔

شیخ الجامعہ اور مسجل جامعہ ملیہ اسلامیہ نے یونیورسٹی کو پورا تعاون دینے اور ان کی تجویزکو باحسن طریق لینے کے لیے وزیر مملکت ڈاکٹر سوکانتا مجمدار کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔

یہ ایئر کنڈیشنڈ ایویلیویشن ہال جامعہ کے کنٹرولر آف ایگزامینیشن آفس بلڈنگ کی دوسری منزل پر واقع ہے، جہاں جائزہ کنندگان اور آبزرورز کے لیے مخصوص سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

یونیورسٹی کے مستقبل کی ترقی کے لیے کاروباری اور منصوبہ بند روڈ میپ کی تعریف کرتے ہوئے، مرکزی وزیربرائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے 105 سال پرانی سنٹرل یونیورسٹی کو قومی اور عالمی تعلیم کا مرکز بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر تجاویز کے لیے اپنی مکمل حمایت کی۔

پروگرام کے مہمان خصوصی مدھوپ کمارتیواری،،آئی پی ایس (اسپیشل کمشنرآف پولیس،لا اینڈ آرڈر، دہلی) نے اس تناظرمیں کہ سال بہ سال سول سروسزکے امتحانات مشکل سے مشکل ترہوتے جارہے ہیں، اپنی تقریرمیں منتخب امیدواروں کی دلجمعی اوران کے استقلال کی تعریف کی۔

پروفیسرمظہرآصف نے صدرجمہوریہ ہند کواقلیتوں کی تعلیم، قومی ہم آہنگی اورسماجی ہم آہنگی کے فروغ کے حوالے سے اپنی تجاویزپیش کیں اوران پرعمل درآمد کی ضرورت پرزوردیا۔ انہوں نے صدرجمہوریہ کواپنے جاری تحقیقی منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔

ایران کے سفیر کبیر ڈاکٹر ایرج الٰہی نے کہا کہ ہندوایران کے سیاسی، سماجی اورعلمی تعلقات زمانہ قدیم سے ہیں، یہ دونوں ملک ساتھ رہے ہیں اورہمیشہ دنیا کے سامنے اپنی مشترکہ علمی میراث کوپیش کرتے رہے ہیں۔