Bharat Express DD Free Dish

Jamia Millia Islamia

دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی میں مرکزی وزارت تعلیم کی مداخلت کا الزام لگایا ہے، جس نے مبینہ طورپروزارت کی طرف سے فراہم کردہ دونامزدگیوں میں سے ایک کے انتخاب کے لئے متاثرکیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اس ریسرچ کو میں انٹرنیشنل جنرل سیل رپورٹ میڈیسن نے منظور بھی کرلیا ہے۔ اسی کے ساتھ سی اے آرٹی-سیل تھیریپی کے پیٹنٹ کے لئے درخواست بھی کی گئی ہے۔

پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے اپنی تقرری پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ عظیم ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عزت و توقیر کا احسا س ہور ہاہے اور جامعہ کے فیکلٹی اراکین، طلبہ اور اسٹاف کے ساتھ مل کر کام کرنے کے سلسلے میں، میں کافی پرامید ہوں۔

دہلی ہائی کورٹ نے بغیراجازت کے کیمپس میں احتجاج کررہے کئی طلبا کی معطلی پر روک لگا دی ہے۔ یہ فیصلہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 4 طلبا کی عرضی پر سماعت کے بعد آیا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تیر اندازی کی ٹیم نے جونیئر زمرے میں طلائی تمغہ اور سینئر زمرے میں نقرئی تمغہ کے ساتھ دیگر متعدد دیگر کھلاڑیوں کی حصولیابیوں کے ساتھ غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ جامعہ کی تیر اندازی ٹیم نے کل 12 تمغے حاصل کیے ہیں۔

پولیس کی جانب سے انہیں حراست میں لینے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج میں شامل تقریباً 17 طلباء کو معطل کر دیا اور یونیورسٹی کے گیٹ پر ان کی تصاویر، کورسز، نام نمبر اور دیگر ذاتی معلومات شیئر کرنے پر نوٹس چسپاں کر دیا۔

طلباء کو ایسے وقت میں حراست میں لیا گیا ہے جب یونیورسٹی کی ڈسپلنری کمیٹی دو پی ایچ ڈی طلباء کے احتجاجی پروگرام کا جائزہ لینے والی ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ ڈسپلنری کمیٹی کی میٹنگ 25 فروری کو ہونا ہے۔ حالانکہ، ابھی تک یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

پہلے دن میں 32 تحقیقی مقالے بھارت اور دیگر ممالک کے ماہرین اور اسکالرز نے پیش کیے۔ اس کانفرنس میں انڈونیشیا، افغانستان، نیپال، تبت، بھوٹان، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ، لاؤس، سنگاپور، تھائی لینڈ جیسے ممالک کے نمائندے شامل تھے۔

اسکالرشپ اینڈ گرانٹس بیورو(ایس اے جی) اورآل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) کی جانب سے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آئیڈیا (آئیڈیا ڈیولپمنٹ، ایوے لوایشن اینڈ اپلی کیشن) لیپ قائم کرنے کی منظوری مل گئی ہے۔

یہ میٹنگ جامعہ اسکول کے طلبہ اور یو پی ایس سی اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے امیدواروں کے فائدے کے لیے ہائی برڈ ایجوکیشن ماڈل پر عمل آوری کے اہم اجز اپرمرکوز تھی۔