آج دہلی ہائی کورٹ نے یوگا گرو اور پتنجلی آیوروید کے شریک بانی بابا رام دیو کے “شربت جہاد” کے متنازعہ تبصرے پر سخت ردعمل ظاہر کیاہے۔ یہ تبصرہ انہوں نے پتنجلی کے گلاب شربت کو فروغ دیتے ہوئے کیا تھا، جس میں انہوں نے بالواسطہ طور پر ہمدرد کے مشہور مشروب “رُوح افزا” کو نشانہ بنایا۔ عدالت نے اس بیان کو “ناقابل دفاع” اور “ضمیر کو جھنجھوڑنے والا” قرار دیا، اور اسے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ سمجھاہے۔ ججوں نے اسے ایک سنجیدہ معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو ہوا دے سکتے ہیں۔ اس سماعت کے دوران عدالت کا موقف واضح تھا کہ اس طرح کی بیان بازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بابا رام دیو نے اپنے دفاع میں کہا کہ انہوں نے کسی مخصوص برانڈ یا کمیونٹی کا نام نہیں لیا، لیکن عدالت نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک شربت بیچنے والی کمپنی اپنی آمدنی سے مساجد اور مدرسوں کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرتی ہے، جسے انہوں نے “شربت جہاد” کا نام دیاتھا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ یہ بیان نہ صرف ہمدرد کے کاروبار کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے بلکہ اس سے مذہبی جذبات کو بھی بھڑکایا جا سکتا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اسے غیر منصفانہ تجارتی عمل اور ممکنہ طور پر نفرت انگیز تقریر کے طور پر دیکھا۔ اس کیس کی تازہ ترین سماعت میں عدالت نے اس معاملے کی سنگینی پر زور دیا اور اس کے قانونی نتائج کا جائزہ لینے کا عندیہ دیاہے۔
وہیں دوسری جانب ہمدرد لیبارٹریز، جو “رُوح افزا” کو تیار کرتی ہے، نے اس تنازع پر اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ ایک سو سال سے زیادہ عرصے سے ایک قابل اعتماد برانڈ ہے اور اس کی مصنوعات ہر مذہب کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ کمپنی نے بابا رام دیو کے بیانات کو بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا۔ عدالت نے بھی اس بات پر غور کیا کہ “رُوح افزا” ایک تاریخی مشروب ہے جو گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے، اور اسے متنازعہ بنانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔ سماعت کے دوران ہمدرد کے وکلاء نے دلائل دیے کہ یہ بیان ان کے برانڈ کی ساکھ کو داغدار کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ عدالت نے اس موقف کو سنجیدگی سے لیا اور اسے قانونی دائرہ کار میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔
اس مقدمے میں کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ کی طرف سے دائر کردہ شکایت بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے بابا رام دیو پر الزام لگایا کہ انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے اور پتنجلی کی فروخت بڑھانے کے لیے یہ بیان دیا۔ دگ وجے سنگھ نے مدھیہ پردیش پولیس میں ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن اب یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ عدالت نے اسے ایک وسیع تناظر میں دیکھتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف کاروباری مقابلے کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ معاشرتی تانے بانے کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ تازہ ترین پیش رفت میں عدالت نے اس کیس کو مزید سماعت کے لیے جلد طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کی اس تازہ ترین کارروائی نے بابا رام دیو کے متنازعہ بیانات کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے، اور اسے ایک مثال قائم کرنے کا موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں نفرت انگیز یا فرقہ وارانہ بیانات کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ فی الحال، کیس کی اگلی سماعت میں مزید دلائل سنے جائیں گے، اور عدالت اس بات کا تعین کرے گی کہ کیا بابا رام دیو کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

