Bharat Express DD Free Dish

Baba Ramdev

ہریدوار میں منعقدہ ’’کردار سازی اور خوشحالی کی بنیاد: تعلیم‘‘  آچاریہ کلَم سالانہ تقریب میں بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اُپندر رائے نے شرکت کی۔یوگ گرو بابا رام دیو نے کہا: ’’اُپندر رائے جی نے صفر سے چوٹی تک کا سفر طے کیا ہے۔‘‘

اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے بابا رام دیو کو ان کے ’شربت جہاد‘ والے بیان پر پھٹکار لگائی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ بیان ناقابل قبول ہے اور اسے سن کر انہیں اپنے کانوں اور آنکھوں پر یقین نہیں ہوا۔ انہوں نے رام دیو سے ایک حلف نامہ دینے کو کہا تھا، جس میں لکھا ہے کہ وہ آئندہ ایسا بیان نہیں دیں گے۔

عدالت نے رام دیو کو حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا تھا، جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ مستقبل میں ہمدرد کے خلاف کوئی قابل اعتراض بیان، اشتہار یا سوشل میڈیا پوسٹ جاری نہیں کریں گے۔ اس کے لیے عدالت نے انہیں ایک ہفتے کا وقت دیا تھا۔

اس مقدمے میں کانگریس کے سینئر رہنما دگ وجے سنگھ کی طرف سے دائر کردہ شکایت بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے بابا رام دیو پر الزام لگایا کہ انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے اور پتنجلی کی فروخت بڑھانے کے لیے یہ بیان دیا۔

بابا رام دیو نے ورنداون میں منعقدہ تقریب کے دوران 'شربت جہاد' پر پھر متنازعہ بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کا نام نہیں لیا، لیکن روح افزا والوں نے اسے 'شربت جہاد' مان لیا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ یہ جہاد کررہے ہیں۔ 

سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس رام دیو کے خلاف مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے اور مذہب کی بنیاد پر گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کا مقدمہ درج کرے۔

اشیائے خورد و نوش اور صحت سے متعلق پروڈکٹس کے لے مشہور بابا رام دیو کی ملکیت والی پتنجلی آیوروید نے میگما جنرل انشورنس میں اکثریتی حصص حاصل کرکے عام بیمہ کے شعبے میں قدم رکھا ہے۔ یہ اقدام کمپنی کے لیے ایک نمایاں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے۔

آپ کو بتادیں کہ یوگا گرو بابا رام دیو اور پتنجلی آیوروید لمیٹڈ کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ ان میں گمراہ کن اشتہارات، توہین اور ٹریڈ مارک کی خلاف ورزی جیسے معاملات شامل ہیں۔ ان معاملات میں سپریم کورٹ نے بابا رام دیو اور پتنجلی کو راحت دی ہے۔

جسٹس سنجیو نرولا نے مرکزی حکومت اور پتنجلی کی دیویا فارمیسی کو بھی نوٹس جاری کیا ہے، جو اس کی مصنوعات تیار کرتی ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 28 نومبر کو ہوگی۔

دہلی ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ بابا رام دیو کے خلاف ڈاکٹروں کی کئی تنظیموں کی عرضی پر سنایا ہے جس میں کورونیل کو کورونا وبا کا علاج ہونے کے دعوے پر دیا گیا ہے۔