Bharat Express DD Free Dish

Jantar Mantar Protest

سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق کوئی سوال ہیں تو انہیں کسی طرح کی ’جگاڑ‘ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس انہیں، ابھجیت ڈپکے اور آشوتوش کو کبھی بھی بلا سکتی ہے۔ داس نے دعویٰ کیا کہ تینوں نئے پولیس کمشنر کے دفتر میں ایک ساتھ آکر کسی بھی سوال کا سامنا کرنے اور طویل پوچھ گچھ کے لیے تیار ہیں۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا بنیادی طور پر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس اختیار کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا غیر متناسب انداز میں کیا جاتا ہے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ ایسے معاملات میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی بات کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔

دہلی پولیس نے سوتنتر بھاردواج کے خلاف درج ایک پرانی ایف آئی آر میں کل ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی تھیں، اس کے علاوہ پولیس نے اس کے خلاف پوکسو ایکٹ کی دفعات کے تحت ایک نیا مقدمہ بھی درج کیا ہے

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے درخواست دائر کی جا رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر فریقین آپس میں سمجھوتہ کر رہے ہیں تو عدالت کو اس میں کوئی دشواری نہیں ہے۔

رام داس اٹھاولے نے کہا کہ ملک میں کچھ لوگ ریزرویشن ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن ریزرویشن ایک آئینی حق ہے اور اسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ریزرویشن مخالف سرگرمیوں کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے ایسے معاملات میں سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔

دہلی کے جنتر منتر پر آج بھی رویزرویشن کی مخالفت میں بھیڑ جمع ہوسکتی ہے۔ ایسے میں دہلی پولیس الرٹ پر ہے۔ اس سے پہلے جمعہ کے روز ریزرویشن مخالف بھیڑ دیکھنے کو ملی تھی۔

 کانگریس لیڈر راہل گاندھی اورکانگریس لیڈران کے دھرنے کے بعد دہلی پولیس پیلیٹ گن معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے جا رہی ہے۔ لیڈران نے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

کمیٹی میں پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس روی شنکرجھا، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس شالندرکور، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور میگھالیہ کے ریٹائرڈ ڈائریکٹرجنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ڈاکٹر ایل آربشنوئی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے تحاشہ استعمال کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

این ڈی اے کی میٹنگ ختم ہونے کے بعد اتحادی جماعتوں کے تمام ارکان پارلیمنٹ پیدل مارچ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب روانہ ہوئے۔ اس مارچ کے ذریعے پارلیمنٹ میں مختلف مسائل پر بحث شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ خاص طور پر جھارکھنڈ میں طلبہ کے احتجاج اور مبینہ لاٹھی چارج کا معاملہ اٹھایا گیا۔مارچ کے دوران این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ نے اپوزیشن کے خلاف پوسٹرز بھی دکھائے۔

 وزیرداخلہ امت شاہ طلبا پر لاٹھی چارج کے موضوع پر جواب دینے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ وہ لوک سبھا میں اس کا جواب دیں گے۔ اسپیکر اوم برلا جلد ہی ان کے جواب کے لئے وقت متعین کریں گے۔ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ایوان میں طلبا پرلاٹھی چارج سے متعلق معاملے پر بیان دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔