Bharat Express DD Free Dish

Jantar Mantar Protest

ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مودی اور شاہ کی جوڑی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چاہے وہ اقتدار کی حدود کو مسلسل پار کرنے کی کوشش کریں، لیکن کوئی بھی حکومت جواب دہی سے بالاتر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اقتدار ہمیشہ کے لیے رہتا ہے۔

ویڈیو میں کئی افراد کرسیوں پر بیٹھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہاں پولیس کے کچھ افسران بھی موجود ہیں۔ ویڈیو ریکارڈ کرنے والا ایک شخص واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف ہونے والا احتجاج کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسے آزاد ادارے کے خلاف لگائے گئے الزامات پر احتجاج ہے، جس پر انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

احتجاج کرتے ہوئے کسانوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھنا ہر شہری کا حق ہے۔ یونین کے عہدیداروں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ کسانوں کے آئینی اور جمہوری حقوق کا احترام کیا جائے اور انہیں پُرامن طریقے سے دھرنے اور احتجاج میں شرکت کی اجازت دی جائے۔

جنتر منتر پر احتجاج کے پیش نظر ہوٹل لی میریڈیئن کے قریب واقع گول چکر پر بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ یہاں دہلی پولیس کے جوانوں کے ساتھ پنک فورس، ریپڈ ایکشن فورس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس کے اہلکار بھی موجود ہیں۔حساس مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے اہلکاروں کو چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

سی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی اور چاہتی ہے کہ اس کے مطالبات سنے جائیں۔ دوسری جانب، انتظامیہ نے احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔

انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔ اس احتجاج میں کانگریس کے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے علاوہ این سی پی-ایس پی کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے سمیت اپوزیشن کے کئی دیگر رہنما شامل ہوئے۔ احتجاج کا مقصد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنا تھا۔اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر،

دہلی پولیس نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس کے بعد وہ سوشل میڈیا صارفین کے نشانے پر آگئی۔ اس پوسٹ میں صحافیوں کے لیے گائیڈ لائن جاری کرتے ہوئے بتایا گیا کہ احتجاج کی کوریج کے دوران صحافیوں کو دہلی پولیس کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔پوسٹ میں سب سے اہم ہدایت یہ دی گئی کہ احتجاج کی کوریج کے لیے آنے والے تمام صحافی اپنا شناختی کارڈ لازمی ساتھ رکھیں۔

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ پولیس افسران موقع پر موجود رہ کر سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ احتجاج میں شامل ہونے والے افراد کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔پولیس نے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کو پوری طرح تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران واقعہ، نامعلوم افراد پر سی آئی ایس ایف جوان وکرم کمار کو چاقو مارنے کا الزام، پولیس نے تفتیش شروع کردی۔

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے انہیں اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد سب نے مل کر متعلقہ افسر کو تلاش کیا اور ان سے مبینہ بدسلوکی پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، لیکن افسر نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔روزی کے مطابق، اس کے بعد تمام لوگ جمع ہو کر پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچے اور مبینہ بدسلوکی کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔