چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے پیش نظر دہلی سمیت ملک بھر میں پولیس کارروائی کر رہی ہے۔ مظاہرین کو حراست میں لیا جا رہا ہے، لوگوں کو نوٹس دیے جا رہے ہیں اور احتجاج میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، ہریانہ کے ایک گاؤں میں معاملہ اس وقت مختلف رخ اختیار کر گیا، جب لوگوں کو نوٹس دینے پہنچی پولیس کو ہی گاؤں والوں نے ڈیٹین کرلیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے۔
ہریانہ میں کہاں پیش آیا واقعہ؟
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپندر ہڈا کے مطابق، یہ واقعہ ہریانہ کے روہتک ضلع کے گاؤں کبول پور کا ہے۔ ہڈا نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گاؤں والوں نے ان پولیس اہلکاروں کو ہی روک لیا، جو لوگوں کو حراست میں لینے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔دیپندر ہڈا نے کہا، ’’میرے پارلیمانی حلقے روہتک ضلع کے کبول پور میں گاؤں والوں نے حراست میں لینے آئی پولیس کو ہی روک لیا! گزشتہ دو تین دن سے ہریانہ پولیس پورے ہریانہ میں اسی طرح ہمارے سیکڑوں لوگوں کے گھروں پر پہنچ کر انہیں پریشان کر رہی ہے۔ کیا جمہوریت اسی طرح چلے گی؟‘‘
मेरे लोकसभा क्षेत्र रोहतक जिले के कबूलपुर में गाँव वालों ने डिटेन करने आई पुलिस को ही डिटेन कर लिया! 😊😊
दो-तीन दिन से हरियाणा पुलिस पूरे हरियाणा में ऐसे ही हमारे सैकड़ो लोगो के घरों में पहुँच कर उन्हें प्रताड़ित कर रहीं है… प्रजातंत्र ऐसे चलेगा क्या? https://t.co/FIc4LVUqsG
— Deepender Singh Hooda (@DeependerSHooda) October 10, 2026
ویڈیو میں کیا دکھائی دے رہا ہے؟
ویڈیو میں کئی افراد کرسیوں پر بیٹھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہاں پولیس کے کچھ افسران بھی موجود ہیں۔ ویڈیو ریکارڈ کرنے والا ایک شخص واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف ہونے والا احتجاج کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسے آزاد ادارے کے خلاف لگائے گئے الزامات پر احتجاج ہے، جس پر انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ویڈیو میں موجود شخص کے مطابق، احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لیے پولیس صبح سویرے ان کے گھر پہنچی تھی۔ اس نے پولیس کو روہتک پولیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکار دفعہ 166 کا حوالہ دے رہے ہیں، جس کے بعد گاؤں کے لوگ جمع ہو گئے۔ویڈیو میں وہ شخص مزید دعویٰ کرتا ہے کہ گاؤں والوں نے پولیس کے خلاف دفعہ 333 لگانے کی بات کہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب تک اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ کر صورت حال واضح نہیں کرتے، پولیس اہلکاروں کو وہاں سے جانے نہیں دیا جائے گا۔
سی جے پی کے اہم رہنما بھی پولیس حراست میں
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے جنتر منتر پہنچنے کی کوشش کرنے والے تقریباً 200 مظاہرین کو دہلی پولیس نے جمعہ کو حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق، ان مظاہرین کو نئی دہلی کے مختلف مقامات سے حراست میں لیا گیا۔پولیس احتجاجی مقام تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے نئی دہلی کے مختلف علاقوں میں ڈرون کا استعمال بھی کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوٹیوبر دھرو راٹھی کو بھی دہلی پولیس نے گروگرام کے سیکٹر 56 سے حراست میں لیا ہے۔سی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ دہلی پولیس نے اس کے رہنماؤں ابھیجیت دیپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو قومی دارالحکومت میں ان کا طیارہ اترنے کے بعد حراست میں لے لیا۔ پارٹی کے مطابق، اس کی قانونی شاخ کی سربراہ رتنا سنگھ اور تین دیگر وکلا کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
دہلی کے تمام 15 اضلاع میں کارروائی
پولیس ذرائع کے مطابق، سی جے پی کے مجوزہ احتجاج سے قبل احتیاطی اقدامات کے تحت قومی دارالحکومت کے تمام 15 اضلاع میں مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے 600 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں احتجاج کے پیش نظر کی جا رہی ہیں، جب کہ ہریانہ کے گاؤں کبول پور کا واقعہ پولیس کی کارروائی اور مقامی لوگوں کے ردعمل کے حوالے سے توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

