Bharat Express DD Free Dish

CJP Protest

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا بنیادی طور پر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس اختیار کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا غیر متناسب انداز میں کیا جاتا ہے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ ایسے معاملات میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی بات کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔

وکیل نے معاملہ عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ جن لوگوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حملہ کیا تھا، انہیں بعد میں 4 پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیکھا گیا۔ وکیل کے مطابق اس بات کے ثبوت کے طور پر ویڈیوز بھی موجود ہیں۔

دہلی میں طالبہ نشو آزاد کے والد سنجے پر مبینہ حملے کے معاملے میں پولیس نے اب ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کی دفعات شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے یقین ہے کہ حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال اس کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے اس کے برعکس رائے قائم کرنے کی ضرورت ہو۔ بنچ نے کہا کہ تمام متعلقہ افراد سے ذمہ دارانہ اور پرامن رویے کی توقع کی جاتی ہے۔

نیٹ امتحان تنازع اور حکومت کی جانب سے وعدے پورے نہ کیے جانے کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے 5 ستمبر کو دہلی میں مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ مارچ ان خاندانوں کی قیادت میں نکالا جائے گا جو نیٹ امتحان سے متعلق تنازع سے متاثر ہوئے ہیں۔ مارچ انڈیا گیٹ سے شروع ہو کر دہلی پولیس اسٹیشن تک جائے گا۔

کمیٹی کی تشکیل پر چیف جسٹس نے کہا کہ کمیٹی معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ ایک وکیل نے تجویز دی کہ دونوں فریقوں کی جانب سے نوڈل وکیل مقرر کیے جائیں، جو عدالت اور کمیٹی کی معاونت کرسکیں۔چیف جسٹس نے بتایا کہ کمیٹی میں شامل ہونے کے لیے ایک سابق سپریم کورٹ جج اور سابق ڈی جی پی سے رضامندی حاصل کرلی گئی ہے۔

پرکاش راج نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کا جنم اسی انتخابی حلقے میں ہوا اور وہ طویل عرصے سے اسی علاقے میں رہتے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تعلیم، اسکول، کالج اور تھیٹر سے متعلق کام بھی اسی علاقے میں ہوا ہے۔اداکار نے یہ بھی کہا کہ وہ اسی انتخابی حلقے سے لوک سبھا کا انتخاب لڑ چکے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’کھیل شروع ہو گیا ہے۔

جنتر منتر پر جاری طلبہ تحریک کے دوران بریانی تقسیم کرکے سرخیوں میں آنے والے محمد جنید کے خلاف ایک خاتون نے دہلی پولیس میں تحریری شکایت درج کرائی ہے۔ خاتون نے ان پر نامناسب رویے اور ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

وینوگوپال نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس حکومت کو کنٹرول کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی طلبہ کے مسائل کی فکر ہے تو مظاہروں کے دوران طلبہ کے خلاف مبینہ کارروائی کی کھلے عام مذمت کی جانی چاہیے۔

جنتر منتر پر نیٹ (NEET) امتحان سے متعلق احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا تبصرہ کرنے والی نابالغ طالبہ کو بڑی راحت ملی ہے۔ شکایت کنندہ روچیکا سنگھ نے اس معاملے میں درج کرائی گئی ایف آئی آر واپس لے لی ہے۔