CJP Protest 11 Metro Stations Closed: جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج سے دہلی میں ہائی الرٹ، 11 میٹرو اسٹیشن بند، کئی سڑکوں پر جام
سی جے پی کے احتجاج کے پیش نظر ڈی ایم آر سی نے جن پتھ، راجیو چوک سمیت 11 میٹرو اسٹیشنوں پر داخلہ اور باہر نکلنے کے راستے اگلے حکم تک بند کیے، 4 اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولت جاری
Sonam Wangchuk: سونم وانگچک نے حکومت پر اٹھائے سوال، کہا- عدالتی جانچ رپورٹ آخر منظرعام پر کیوں نہیں لائی جا رہی؟
وانگچک نے کہا کہ 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ’’یوم شہدا‘‘ منایا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس دن میڈیا بلیک آؤٹ جیسا ماحول تھا اور پی ٹی آئی، اے این آئی سمیت کئی میڈیا اداروں کی موجودگی نہیں تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا میڈیا کو کسی خبر کو دکھانے یا روکنے کے لیے کنٹرول کیا جا رہا ہے؟ وانگچک نے کہا، ’’میں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا ایسی خبر دکھانے کے لیے میڈیا کو بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے؟‘
CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس کے حامیوں پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔ وینوگوپال نے لوگوں سے جمہوریت کے معاملے پر آگے آنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پر دباؤ بنایا جانا چاہیے تاکہ انتخابی عمل اور ووٹوں سے متعلق معاملات میں جواب دہی طے ہوسکے۔
?Why is CJP’s Saurav Das angry: سی جے پی کے سورو داس کو کیوں آیا غصہ؟ بولے- پتا چلا ہے کہ دہلی پولیس اب بھی ہمیں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق کوئی سوال ہیں تو انہیں کسی طرح کی ’جگاڑ‘ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس انہیں، ابھجیت ڈپکے اور آشوتوش کو کبھی بھی بلا سکتی ہے۔ داس نے دعویٰ کیا کہ تینوں نئے پولیس کمشنر کے دفتر میں ایک ساتھ آکر کسی بھی سوال کا سامنا کرنے اور طویل پوچھ گچھ کے لیے تیار ہیں۔
SC Strict on Closing Metro Stations: جنتر منتر مظاہرے کے دوران میٹرو اسٹیشن بند کرنے پر سپریم کورٹ سخت، مرکز، دہلی حکومت اور ڈی ایم آر سی سے جواب طلب
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا بنیادی طور پر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس اختیار کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا غیر متناسب انداز میں کیا جاتا ہے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ ایسے معاملات میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی بات کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔
Swatantra Bhardwaj Case: سوتنتر بھاردواج معاملے میں چیف جسٹس سخت، اگر سماج دشمن عناصر نے بچوں کے خلاف تشدد کیا ہے اور وہ اب بھی آزاد ہیں، تو یہ سنگین معاملہ ہے
وکیل نے معاملہ عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ جن لوگوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حملہ کیا تھا، انہیں بعد میں 4 پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیکھا گیا۔ وکیل کے مطابق اس بات کے ثبوت کے طور پر ویڈیوز بھی موجود ہیں۔
Delhi Police SC-ST Act: پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پر ہنگامے کے بعد پولیس حرکت میں، سوتنتر بھاردواج پر کسے گا شکنجہ، ایف آئی آر میں شامل ہوگی ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کی دفعات
دہلی میں طالبہ نشو آزاد کے والد سنجے پر مبینہ حملے کے معاملے میں پولیس نے اب ایس سی-ایس ٹی ایکٹ کی دفعات شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
CJP’s March in Delhi: سی جے پی کی مجوزہ ریلی پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار، ’احتجاج کرنا لوگوں کا حق، امن وامان برقرار رکھنا حکومت اور پولیس کی ذمہ داری‘
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ امن و امان برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسے یقین ہے کہ حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ فی الحال اس کے سامنے ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے اس کے برعکس رائے قائم کرنے کی ضرورت ہو۔ بنچ نے کہا کہ تمام متعلقہ افراد سے ذمہ دارانہ اور پرامن رویے کی توقع کی جاتی ہے۔
CJP Announces Protest March in Delhi: سی جے پی کا بڑا اعلان، 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر تک نکالا جائے گا عظیم الشان مارچ
نیٹ امتحان تنازع اور حکومت کی جانب سے وعدے پورے نہ کیے جانے کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے 5 ستمبر کو دہلی میں مارچ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ مارچ ان خاندانوں کی قیادت میں نکالا جائے گا جو نیٹ امتحان سے متعلق تنازع سے متاثر ہوئے ہیں۔ مارچ انڈیا گیٹ سے شروع ہو کر دہلی پولیس اسٹیشن تک جائے گا۔
CJP Protest Case: سی جےپی احتجاج معاملہ، ایف آئی آر منسوخی کی درخواست پر سے جے آئی نے کہا، ’ہم کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں
کمیٹی کی تشکیل پر چیف جسٹس نے کہا کہ کمیٹی معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ ایک وکیل نے تجویز دی کہ دونوں فریقوں کی جانب سے نوڈل وکیل مقرر کیے جائیں، جو عدالت اور کمیٹی کی معاونت کرسکیں۔چیف جسٹس نے بتایا کہ کمیٹی میں شامل ہونے کے لیے ایک سابق سپریم کورٹ جج اور سابق ڈی جی پی سے رضامندی حاصل کرلی گئی ہے۔





