Bharat Express DD Free Dish

CJP Protest

10 اکتوبر کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے پیش نظر دہلی میں سکیورٹی سخت، 57 میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی دروازے بند کرنے کی تجویز؛ کئی میل اور ایکسپریس ٹرینیں بھی منسوخ

10 اکتوبر کو صبح 4 بجے سے دوپہر 2 بجے تک نئی دہلی اور حضرت نظام الدین اسٹیشنوں پر پہنچنے والی ٹرینیں رہیں گی منسوخ، میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند کرنے کی بھی تجویز

پولیس کے مطابق، 2 اکتوبر کو شام 4 بجے سے 7 بجے کے درمیان شیواجی پارک میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے، حالانکہ مظاہرے کے لیے اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس دوران عوامی اجتماع کرنے، نعرے لگانے اور عوامی سڑک پر تیز آواز میں لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ممبئی کے احتجاج میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ اگر گیانیش کمار عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے تو ملک بھر سے نوجوان دہلی پہنچیں گے۔ انہوں نے آئندہ احتجاج کو ’جنتر منتر 2.0‘ قرار دیتے ہوئے ’چلو دہلی‘ کا نعرہ دیا۔سی جے پی کا کہنا ہے کہ اس کی تحریک پرامن رہے گی اور وہ مہاتما گاندھی کے بتائے راستے پر چلیں گے۔ تنظیم نے انتخابی عمل اور ووٹر فہرستوں سے متعلق اپنے اعتراضات کے حوالے سے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور مہاراشٹر میں نافذ SIR واپس لینے کے مطالبے کو لے کر شیواجی پارک میں احتجاج، نصیرالدین شاہ، شبانہ اعظمی، وشال بھاردواج اور وشال دادلانی سمیت کئی معروف شخصیات کی شرکت، ممبئی پولیس نے سکیورٹی سخت کردی۔

سی جے پی کے احتجاج کے پیش نظر ڈی ایم آر سی نے جن پتھ، راجیو چوک سمیت 11 میٹرو اسٹیشنوں پر داخلہ اور باہر نکلنے کے راستے اگلے حکم تک بند کیے، 4 اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولت جاری

وانگچک نے کہا کہ 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ’’یوم شہدا‘‘ منایا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس دن میڈیا بلیک آؤٹ جیسا ماحول تھا اور پی ٹی آئی، اے این آئی سمیت کئی میڈیا اداروں کی موجودگی نہیں تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا میڈیا کو کسی خبر کو دکھانے یا روکنے کے لیے کنٹرول کیا جا رہا ہے؟ وانگچک نے کہا، ’’میں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا ایسی خبر دکھانے کے لیے میڈیا کو بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے؟‘

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس کے حامیوں پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔ وینوگوپال نے لوگوں سے جمہوریت کے معاملے پر آگے آنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پر دباؤ بنایا جانا چاہیے تاکہ انتخابی عمل اور ووٹوں سے متعلق معاملات میں جواب دہی طے ہوسکے۔

سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق کوئی سوال ہیں تو انہیں کسی طرح کی ’جگاڑ‘ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس انہیں، ابھجیت ڈپکے اور آشوتوش کو کبھی بھی بلا سکتی ہے۔ داس نے دعویٰ کیا کہ تینوں نئے پولیس کمشنر کے دفتر میں ایک ساتھ آکر کسی بھی سوال کا سامنا کرنے اور طویل پوچھ گچھ کے لیے تیار ہیں۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا بنیادی طور پر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس اختیار کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا غیر متناسب انداز میں کیا جاتا ہے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ ایسے معاملات میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی بات کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔