نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران سکیورٹی کے نام پر اچانک میٹرو اسٹیشن بند کیے جانے کے معاملے میں مرکز، دہلی حکومت اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد یہ نوٹس جاری کیا۔ درخواست میں میٹرو اسٹیشن بند کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اس کے آئینی جواز پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
قانون و نظم برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا بنیادی طور پر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس اختیار کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا غیر متناسب انداز میں کیا جاتا ہے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ ایسے معاملات میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی بات کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون و نظم سے متعلق معاملات میں عدالتیں عام طور پر انتظامیہ کے فیصلوں پر اعتماد کرتی ہیں اور انتظامیہ کے صوابدیدی اختیارات میں مداخلت سے گریز کرتی ہیں۔ تاہم اگر کسی کارروائی کے اثرات غیر متناسب نظر آئیں تو عدالت اس کی جانچ کر سکتی ہے۔
میٹرو اسٹیشن بند کرنے کا تحریری حکم کہاں ہے؟
درخواست گزار کی جانب سے پیش وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ متعلقہ میٹرو اسٹیشن بند کرنے کے لیے کوئی تحریری یا قانونی حکم جاری نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اسٹیشن بند کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ وکیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ میٹرو ریل ایکٹ میں بھی ایسا کوئی واضح انتظام موجود نہیں ہے جس کے تحت اچانک میٹرو اسٹیشن بند کیے جا سکیں۔
’کیا سکیورٹی کے نام پر ضروری خدمات بند کی جا سکتی ہیں؟‘
درخواست میں بنیادی سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ کیا سکیورٹی اور قانون و نظم کی صورتحال کا حوالہ دے کر میٹرو جیسی ضروری عوامی خدمات کو اچانک بند کیا جا سکتا ہے؟ اب سپریم کورٹ مرکز، دہلی حکومت اور ڈی ایم آر سی کے جواب کے بعد اس معاملے کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

