Bharat Express DD Free Dish

Delhi News

مرکزی وزیر ہرش ملہوترا نے نئی دہلی سے ’یوتھ سیفٹی اینڈ اسمارٹ موبلٹی مہم 2026‘ کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ PHDCCI کے زیر اہتمام، اس 500 کلومیٹر طویل الیکٹرک گاڑیوں کے سفر کا مقصد سڑک کی حفاظت اور ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کو فروغ دینا ہے۔

ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کر رہی ہے۔ پولیس نے علاقے میں موجود لوگوں سے بھی واقعے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کر دی ہیں۔پولیس کے مطابق دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر تلاش جاری ہے اور واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

دیویندر نے بتایا کہ 2 سال پہلے آیا نگر میں ارون نامی ایک نوجوان کا قتل ہوا تھا۔ اس معاملے میں وجے کے چھوٹے بھائی اجے اور اس کے دوست دیپک اور یوگیش کو قصوروار پایا گیا تھا اور وہ تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ارون کے اہل خانہ کو شبہ تھا کہ وجے بھی اس قتل میں شامل تھا۔ اسی وجہ سے اسے کئی بار دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔ پولیس اب پرانے قتل کے معاملے اور تازہ واردات کے درمیان ممکنہ تعلق کی کڑی تلاش کر رہی ہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون و نظم برقرار رکھنا بنیادی طور پر انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس اختیار کا استعمال ضرورت سے زیادہ یا غیر متناسب انداز میں کیا جاتا ہے تو عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ ایسے معاملات میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) کی بات کرنا آسان ہے، لیکن عملی طور پر صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔

حادثے کے مقام ستیہ نکیتن میں منہدم ہونے والی عمارت کے بالکل ساتھ واقع مکان نمبر 13 کو بھی گرانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ چار منزلہ اس عمارت میں طالبات کے لیے PG ہاسٹل چلایا جا رہا تھا۔ مرکزی عمارت کے منہدم ہونے کے بعد اس عمارت کی دیواروں میں بھی دراڑیں پڑ گئی تھیں، جس کے بعد اتوار کو ہی تمام طالبات کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

تین منزلہ پرانی عمارت کے اوپر مبینہ طور پر مزید تین منزلیں تعمیر کیے جانے کے دعوے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا عمارت کی ضروری حفاظتی معیارات کے مطابق جانچ کی گئی ہے؟ اگر عمارت کی مضبوطی اور سلامتی پر خدشات موجود ہیں تو اب تک اسے سیل کیوں نہیں کیا گیا، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔

منی پور کے وزیر اعلیٰ یومنم کھیم چند سنگھ نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ معروف گٹارسٹ چونگتھم وکرم کے بے وقت انتقال سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موسیقی اور منی پور کی ثقافتی زندگی میں وکرم سنگھ کی قیمتی خدمات کو ہمیشہ گہرے احترام کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔

ستیّہ نکیتن حادثے پر سوال اٹھاتے ہوئے سورَو داس نے کہا کہ کونسلر سے لے کر وزیر اعظم تک بی جے پی کے لوگ ہیں، پھر بچے کیسے مر رہے ہیں؟ چھتیں کیسے گر رہی ہیں اور آگ کے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟

مقامی باشندوں نے عمارت کے انہدام کے لیے مرمت کے کام اور بیسمنٹ میں جمع پانی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ بلدیاتی ادارے نے قریب کی ایک عمارت کو خالی کرا کر سیل کر دیا، جہاں لڑکیوں کا پی جی چل رہا تھا۔ حکام کے مطابق آس پاس کی کم از کم چار عمارتوں کو دہلی میونسپل کارپوریشن ایکٹ، 1957 کی دفعہ 349 کے تحت خالی کرنے کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔دفعہ 349 اور 491 کے تحت MCD خطرناک یا پرخطر قرار دی جانے والی عمارتوں کو خالی کرانے اور انہیں خطرناک قرار دینے کا نوٹس جاری کر سکتا ہے۔

ہائی کورٹ نے ایم سی ڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر دہلی میں چل رہے پی جی اور ہاسٹل کا آڈٹ کرے۔ ایم سی ڈی کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ پی جی کے لیے کوئی ضابطہ یا نظام موجود ہے یا نہیں اور ان پی جی و ہاسٹل میں کتنے طلبہ رہ رہے ہیں۔ عدالت نے دہلی یونیورسٹی سے بھی معلومات طلب کی ہیں کہ دہلی سے باہر کے کتنے طلبہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں اور ان کے لیے کتنے ہاسٹل دستیاب ہیں۔