Urdu Conclave 2026

Delhi Liquor Policy Case: اروند کیجریوال کے خلاف درج ہوگامقدمہ ، وزارت داخلہ نے ای ڈی کو دی اجازت، جانئے تفصیلات

ای ڈی نے 21 مارچ 2024 کو دہلی کے اس وقت کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو گرفتار کیا تھا اور مئی میں ان کے، عام آدمی پارٹی اور دیگر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال

نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے ای ڈی کو دہلی شراب گھوٹالہ سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں اروند کیجریوال کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت نے منیش سسودیا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ گزشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ نے ایک حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ سرکاری ملازم کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے اتھارٹی سے اجازت لینی ہوگی۔

ای ڈی نے اروند کیجریوال کو شراب گھوٹالہ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا۔ ای ڈی نے اسے ایک سازشی بتایا تھا۔ ای ڈی نے اروند کیجریوال کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی ہے، جس کے خلاف کیجریوال نے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور کہا تھا کہ چارج شیٹ کا نوٹس لینے پر روک لگائی جائے۔

منیش سسودیا کا نام بھی ای ڈی کی چارج شیٹ میں ہے شامل 

ای ڈی نے 21 مارچ 2024 کو دہلی کے اس وقت کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو گرفتار کیا تھا اور مئی میں ان کے، عام آدمی پارٹی اور دیگر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ ای ڈی کی چارج شیٹ میں کیجریوال کے ساتھ منیش سسودیا کو بھی اس گھوٹالے کا ماسٹر مائنڈ بتایا گیا ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق کیجریوال اور سسودیا نے دہلی ایکسائز پالیسی 2021-22 میں تبدیلیاں کیں، جس کے لیے مبینہ طور پر 100 کروڑ روپے کی رشوت دی گئی۔

دہلی انتخابات سے قبل کیجریوال کی مشکلات میں اضافہ

اروند کیجریوال کو 10 لاکھ روپے کی دو ضمانتوں پر سپریم کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ عدالت نے کیجریوال پر کئی پابندیاں لگائی تھیں۔ دہلی میں 5 فروری کو اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ اس معاملے پر بی جے پی اور کانگریس عام آدمی پارٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ایسے میں کیس کا حکم ملنے سے عام آدمیا پارٹی اور کیجریوال دونوں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read