Bharat Express DD Free Dish

Arvind Kejriwal

عام آدمی پارٹی کو ملنے والے کل چندے کا تقریباً 83 فیصد حصہ دو بڑے عطیہ دہندگان سے آیا۔ پرڈنٹ الیکٹورل ٹرسٹ اور ٹرائیڈنٹ لمیٹڈ، دونوں نے پارٹی کو 5-5 کروڑ روپے دیے۔ٹرائیڈنٹ لمیٹڈ کی بنیاد عام آدمی پارٹی کے سابق راجیہ سبھا رکن راجندر گپتا نے رکھی تھی۔ گپتا اکتوبر 2025 میں عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو سرعام تھپڑ مارنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔

بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی ووٹر فہرست سے میچ نہیں ہو سکا تھا۔ایسے زیادہ تر معروف ووٹر نئی دہلی اسمبلی حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انتخابی حکام کے مطابق نوٹس جاری ہونے کا مطلب ووٹر کا نام خود بخود فہرست سے خارج ہونا نہیں ہے۔

اروند کیجریوال نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’2022 میں جب ہماری حکومت بنی تھی تو 80 فیصد منشیات پاکستان سے آتی تھی۔ عام آدمی پارٹی کی حکومت نے اینٹی ڈرون سسٹم نصب کرکے پاکستان سے آنے والی منشیات پر قابو پایا۔ آج صرف 20 فیصد منشیات پاکستان سے آتی ہیں۔ آج 80 فیصد منشیات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں—گجرات، راجستھان،

ابھیجیت دپکے کی تعلیمی قابلیت اور ڈگری کو لے کر اٹھنے والے سوالات پر بھی انہوں نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ عوامی زندگی میں ہیں، ان کی ڈگری اور تعلیم کے بارے میں سوال پوچھے جا سکتے ہیں۔

اے سی بی نے سابق سی ای اودہلی جل بورڈ ادت پرکاش رائے (آئی اے ایس)، سابق کنٹریکٹ کنسلٹنٹ، دہلی جل بورڈ انکت شریواستو، پروپرائٹر ایم/ایس انٹرپرائزز ناگیندر یادو، مالک ایم/ایس یوروٹیک انوائرنمنٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ راجا کمارکّرا اور پروپرائٹر ایم/ایس کریٹرپنکج ورما کو بھی گرفتارکیا۔ 11 مئی 2024 کو پروینشن آف کرپشن ایکٹ اورآئی پی سی کی دفعات میں درج کیا گیا تھا۔

اروند کیجریوال نے اپنے بیان میں آزادیٔ ہند کے عظیم انقلابی شہید بھگت سنگھ اور آئین ساز ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج بھگت سنگھ زندہ ہوتے تو وزیر اعظم انہیں بھی دِماغی نکسل قرار دے دیتے۔ اسی طرح اگر بابا صاحب امبیڈکر آج زندہ ہوتے، جنہوں نے ملک میں سب کی برابری کے لیے جدوجہد کی، تو کیجریوال کے مطابق انہیں بھی دِماغی نکسل کہنے سے نہیں بخشا جاتا۔

دہلی شراب پالیسی معاملے میں الزامات سے بری کیے گئے اروند کیجریوال اور منیش سسودیا نے سی بی آئی کی اپیل خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

دہلی بی جے پی نے بھی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے اروند کیجریوال کو نشانہ بنایا۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ سی جے پی کے احتجاج کے ’اصل مالک‘ کیجریوال ہیں اور انہوں نے خود ہی یہ بات تسلیم کرلی ہے۔ بی جے پی کے مطابق احتجاج میں سڑکوں پر آنے والے لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کو ’ٹھوکنے‘ آئے تھے۔

پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام کے سوالات سے بچنے کے لیے حکومت نے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے، جبکہ یہ مارچ عوامی مفاد کے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے نکالا جا رہا ہے۔دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق اروند کیجریوال کے مجوزہ مارچ کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک کسی بھی مارچ کے لیے کوئی باضابطہ اجازت جاری نہیں کی گئی