رام نومی کے دن سید سالار مسعود غازی کی درگاہ پر لہرایا گیا بھگوا جھنڈا
یوپی نیوز: رام نومی کے موقع پر پریاگراج میں ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے سید سالار مسعود غازی کی درگاہ پر چڑھ کر ہنگامہ کیا۔ ہندو تنظیم کے کارکنان بھگوا جھنڈا لے کر درگاہ کی چھت پر چڑھ گئے اور درگاہ کے گنبد کے قریب بھگوا جھنڈا ہوا میں لہراتے ہوئے نعرے بازی کی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سرگرم کارکن منیندر پرتاپ سنگھ کی قیادت میں یہ ہنگامہ کیا گیا۔
بھگوا کپڑا پہنے ہوئے درجنوں افراد شام 4 بجے کے قریب شہر سے 40 کلومیٹر دور سکندر کے علاقے میں واقع سالار مسعود غازی کے مزار پر پہنچے۔ یہاں وہ دیواروں کے سہارے درگاہ کی چھت پر چڑھ گئے اور گنبد کے قریب بھگوا جھنڈا ہوا میں لہراتے ہوئے نعرے لگائے۔ اس دوران افراتفری مچ گئی اور تین نوجوان بھگوا جھنڈا اٹھائے گنبد کے پاس پہنچ گئے جبکہ نیچے جمع درجنوں لوگ نعرے لگا رہے تھے۔
پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی کارکن واپس چلے گئے، ہنگامہ کرنے والے نوجوان موٹر سائیکل پر سالار مسعود غازی کے مزار پر پہنچے تھے۔ درگاہ پر بھگوا جھنڈا لہرانے کے بعد کارکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی واپس چلے گئے۔ اس دوران درگاہ کے احاطے میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا اور لوگ خوف و ہراس میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ منیندر پرتاپ سنگھ، جنہوں نے نوجوانوں کی ہنگامہ آرائی کی قیادت کی، خود کو آر ایس ایس اور بی جے پی کا کارکن بتاتا ہے۔
موقع پر پہنچی پولیس تحقیقات میں مصروف
اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے پروفائل میں خود کو الہ آباد سنٹرل یونیورسٹی کا سابق اسٹوڈنٹ لیڈر بھی لکھا ہے۔ وہ کرنی سینا کے ریاستی صدر بھی رہ چکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سالار مسعود غازی حملہ آور تھے۔ ایسے میں پوتر مقام پریاگراج میں ان کی کوئی درگاہ نہیں ہونی چاہیے اور درگاہ کو فوراً گرا دینا چاہیے۔ وہ جگہ پوجا کے لیے ہندوؤں کے حوالے کر دینا چاہیے۔ وہیں، پولیس موقع پر پہنچ کر معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


