Bharat Express DD Free Dish

Hindu Organization

اتراکھنڈ کے مسوری میں ایک ہندوتنظیم کے اراکین نے بلّ شاہ بابا کے مقبرے میں توڑ پھوڑ کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ بلّ شاہ پاکستان کے رہنے والے تھے اوران کا مقبرہ پاکستان میں ہے۔ ہندوتنظیم سے وابستہ اراکین نے بھی بلّ شاہ کوملحد (ناستک) قراردیا۔ اس واقعہ سے مسلم طبقہ میں ایک طرف غم وغصہ پایا جا رہا ہے تو دوسری طرف خوف وہراس کا ماحول ہے۔

بھگوا کپڑا پہنے ہوئے درجنوں افراد شام 4 بجے کے قریب شہر سے 40 کلومیٹر دور سکندر کے علاقے میں واقع سالار مسعود غازی کے مزار پر پہنچے۔ یہاں وہ دیواروں کے سہارے درگاہ کی چھت پر چڑھ گئے اور گنبد کے قریب بھگوا جھنڈا ہوا میں لہراتے ہوئے نعرے لگائے۔ اس دوران افراتفری مچ گئی اور تین نوجوان بھگوا جھنڈا اٹھائے گنبد کے پاس پہنچ گئے جبکہ نیچے جمع درجنوں لوگ نعرے لگا رہے تھے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے خط میں واضح کیا کہ سی بی ایس ای کے ساتھ رجسٹرڈ تمام پرائیویٹ اسکولوں کو اردو کی تعلیم کے لیے ضروری انتظامات کرنے ہوں گے اور کمپلائنس رپورٹ بہار ایجوکیشن پروجیکٹ آفس کو بھیجنی ہوگی۔

ہندو تنظیم نے زور دے کر کہا کہ اشتہار نقصان دہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے توہین آمیز ہے۔ ہندو جنجاگرتی سمیتی نے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دیویندر فڑنویس سے بھی اس معاملے میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نواز الدین نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔