اتر پردیش کے سہارنپور ضلع میں بجلی محکمے میں کام کرنے والے ایک کنٹریکٹ ورکر کو عید کے دن فلسطینی پرچم لہرانے کے الزام میں ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ دی نیو انڈین ایکسپریس نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ثاقب خان نام کے ورکر کی برطرفی کا نوٹس تب جاری کیا گیا، جب فلسطین پرچم لہراتے ہوئے اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے کی خبر ملی۔ حکام نے بتایا کہ کیلاش پور پاور ہاؤس میں کام کرنے والے ثاقب خان نے 31 مارچ کو عید کی نماز کے بعد پرچم لہرایا تھا۔
محکمہ بجلی کے ایگزیکٹیو انجینئر سنجیو کمار کے مطابق محکمہ نے ثاقب خان کے اس عمل کو ’’ملک مخالف‘‘ سمجھتے ہوئے ان کو برطرف کر دیا ہے۔ کمار نے کہا ’’کیلاش پور پاور ہاؤس میں ایک کنٹریکٹ ورکر ثاقب خان نے عید کی نماز ادا کرنے کے بعد فلسطین کا جھنڈا لہرایا اور اس کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’جب یہ معاملہ محکمہ کے نوٹس میں آیا، تو اسے ملک مخالف سرگرمی سمجھا گیا اور فوری طور پر کارروائی کی گئی۔ متعلقہ کنٹریکٹ کمپنی کو خط لکھا گیا اور خان کو ملازمت سے ہٹانے کی ہدایت کی گئی۔‘‘
فلسطینی پرچم لہرانے والے اور لوگوں پر بھی ہوئی ہے کارروائی
محکمہ نے کنٹریکٹ کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ وہ خان کی ملازمت کو فوری طور پر ختم کرے اور کارروائی کی تصدیق کرے۔ اس کے علاوہ بھی ضلع میں فلسطینی پرچم لہرانے والے آٹھ افراد کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔حکام وسیع پیمانے پر نشر ہونے والی ویڈیو کی بنیاد پر مزید افراد کی شناخت کر رہے ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ (سٹی) ویوم بندل نے 31 مارچ کو کہا تھا ’’سوشل میڈیا کے ذریعے ہمارے نوٹس میں ایک ویڈیو آیا ہے جس میں کچھ نوجوان دوسرے ملک کا جھنڈا لہراتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے، جس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔‘‘
ویوم نے کہا تھا کہ امبالا روڈ عیدگاہ میں نماز ادا کرنے کے بعد کچھ نوجوانوں نے دوسرے ملک کے جھنڈے لہراتے ہوئے نعرے لگائے جنھیں پولیس نے فوری طور پر ہٹا دیا۔ اترپردیش پولیس کی یہ کارروائی فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں کے درمیان سامنے آئی ہے، جہاں اسرائیل کے حملے لگاتار جاری ہیں۔ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں 50,500 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جسے کئی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے نسل کشی قرار دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

