دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کوراؤزایوینیوکورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سال 2019 میں دوارکا میں پوسٹراورہورڈنگ لگانے میں سرکاری رقم کے غلط استعمال کے معاملے میں عدالت نے اروند کیجریوال اوردیگرلیڈران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نیہا متل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اروند کجریوال اورعام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے دیگرلیڈران کے خلاف سرکاری فنڈزکے غلط استعمال کا مقدمہ بنتا ہے۔ عدالت نے دوارکا ساؤتھ پولیس کوسیکشن 156(3) سی آرپی سی کے تحت ایف آئی آردرج کرنے اور18 مارچ تک تعمیل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
کیجریوال کے ساتھ سابق رکن اسمبلی اور کونسلر بھی ملزم
اس معاملے میں سابق رکن اسمبلی گلاب سنگھ اورسابق کونسلرنیتیکا شرما بھی ملزم ہیں۔ سال 2019 میں درج شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ اروند کیجریوال، گلاب سنگھ اورنیتیکا شرما نے دہلی میں مختلف مقامات پربڑے ہورڈنگ لگاکرجان بوجھ کرعوامی فنڈزکا غلط استعمال کیا۔ ستمبر 2022 میں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے اس شکایت کوخارج کردیا تھا۔ حالانکہ سیشن عدالت نے اس فیصلے کوپلٹ دیا اورنظرثانی کے لئے معاملہ مجسٹریٹ کورٹ کوواپس بھیج دیا۔ اس کے بعد عدالت نے کہا تھا کہ معاملے کی ازسرنوسماعت ہوگی۔ یہ معاملہ شیوکمارسکسینہ کے ذریعہ دائرعرضی سے متعلق ہے، جس پراب کورٹ نے سماعت کرتے ہوئے ایف آئی آردرج کرنے کا حکم دیا ہے
کیجریوال کو لگا دوسرا جھٹکا
واضح رہے کہ اس سال قانونی طور پر اروند کیجریوال کو لگا یہ دوسرا جھٹکا ہے۔ اس سے پہلے فروری میں اروند کیجریوال کے خلاف ہریانہ کے شاہ آباد پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ یہ کارروائی ان کے اس بیان سے متعلق تھا، جس میں انہوں نے ہریانہ پر جمنا ندی کے پانی میں ’زہر‘ ملانے کا الزام لگایا تھا۔ اس طرح سے دہلی میں اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد سے کیجریوال کی پریشانیاں کم ہوتی ہوئی نہیں نظرآرہی ہیں۔ ان کے لئے قانونی چیلنجز بڑھتے جارہے ہیں۔
ہریانہ میں کس کی شکایت پر درج ہوئی ایف آئی آر؟
دراصل، اروند کیجریوال نے انتخابی تشہیر کے دوران ہریانہ حکومت پرجمنا کے پانی میں زہر ملانے کا الزام لگایا تھا۔ اس سے متعلق شاہ آباد باشندہ جگموہن منچندا نے شکایت درج کرائی، جس پر اروند کیجریوال کے خلاف بی این ایس 192, 196(1), 197(1), 248(اے) اور 299 کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

