Bharat Express DD Free Dish

CJP Protest

پرکاش راج نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کا جنم اسی انتخابی حلقے میں ہوا اور وہ طویل عرصے سے اسی علاقے میں رہتے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تعلیم، اسکول، کالج اور تھیٹر سے متعلق کام بھی اسی علاقے میں ہوا ہے۔اداکار نے یہ بھی کہا کہ وہ اسی انتخابی حلقے سے لوک سبھا کا انتخاب لڑ چکے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’کھیل شروع ہو گیا ہے۔

جنتر منتر پر جاری طلبہ تحریک کے دوران بریانی تقسیم کرکے سرخیوں میں آنے والے محمد جنید کے خلاف ایک خاتون نے دہلی پولیس میں تحریری شکایت درج کرائی ہے۔ خاتون نے ان پر نامناسب رویے اور ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس نے شکایت کی بنیاد پر معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

وینوگوپال نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس حکومت کو کنٹرول کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی طلبہ کے مسائل کی فکر ہے تو مظاہروں کے دوران طلبہ کے خلاف مبینہ کارروائی کی کھلے عام مذمت کی جانی چاہیے۔

جنتر منتر پر نیٹ (NEET) امتحان سے متعلق احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا تبصرہ کرنے والی نابالغ طالبہ کو بڑی راحت ملی ہے۔ شکایت کنندہ روچیکا سنگھ نے اس معاملے میں درج کرائی گئی ایف آئی آر واپس لے لی ہے۔

سپریم کورٹ نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک اور جنتر منتر طلبہ احتجاج سے متعلق مقدمات کی اگلی سماعت 18 اگست کو کرے گی۔ عدالت نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے یا انہیں بند کرنے کا اختیار متعلقہ ریاستی حکومتوں کے پاس ہے۔

سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ اگر جنتر منتر موجودہ حالات میں مناسب مقام نہیں تو کیا دہلی میں کسی دوسری جگہ کو احتجاجی مظاہروں کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کا تحفظ ہو اور دوسری جانب عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے،

سورت کے ایک آر ٹی آئی کارکن نے ابھیجیت دیپکے کے والد کی جائیداد اور سی جے پی (CJP) کی فنڈنگ کے سلسلے میں سوالات اٹھائے ہیں۔

سوربھ داس نے اپنی تنقید کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں موجود کئی ارکانِ پارلیمنٹ کے خلاف سنگین فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ان کے مطابق قتل، عصمت دری اور ڈکیتی جیسے مقدمات کا سامنا کرنے والے عوامی نمائندے بھی پارلیمنٹ میں موجود ہیں، لیکن ان کے خلاف اس شدت سے کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ چند نازیبا الفاظ بولنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کرنے کے معاملے میں پولیس مختلف ویڈیوز کی جانچ کر رہی ہے

دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر قابلِ اعتراض تبصرہ کرنے کے معاملے میں پولیس نے کارروائی کی ہے۔ نوئیڈا کے ایکسپریس وے تھانے میں روچیکا سنگھ نامی خاتون کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

پیر کے روز دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) کو ایک خط ارسال کیا۔ پولیس نے ان تمام پوسٹس اور ویڈیوز کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے جن میں وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز اور قابلِ اعتراض زبان استعمال کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی پولیس نے تحقیقات کے لیے متعلقہ ایکس اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔