جنتر منتر پر نیٹ یو جی (NEET UG) امتحان میں مبینہ پیپر لیک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں مبینہ طور پر نازیبا تبصرہ کرنے والی ایک نابالغ طالبہ کو بڑی راحت ملی ہے۔ اس معاملے میں شکایت درج کرانے والی خاتون روچیکا سنگھ نے اپنی شکایت باضابطہ طور پر واپس لے لی ہے، جس کے بعد طالبہ کے خلاف درج ایف آئی آر مؤثر طور پر ختم ہو جائے گی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں سپریم کورٹ نے نیٹ احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف درج مقدمات کے معاملے پر سخت موقف اختیار کیا تھا۔ عدالت کی سماعت کے دوران یہ معاملہ خاص اہمیت اختیار کر گیا تھا۔
سپریم کورٹ کے رخ کے بعد آیا فیصلہ
چند روز قبل سپریم کورٹ میں نیٹ پیپر لیک اور جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی سے متعلق عرضیوں پر سماعت ہوئی تھی۔ اس دوران عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا تھا کہ ریاستی حکومتیں یا شکایت کنندگان قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے طلبہ اور نابالغوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے سکتے ہیں یا انہیں بند کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ طلبہ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف سنگین نوعیت کے جرائم کو ہی مجرمانہ ریکارڈ کا حصہ سمجھا جانا چاہیے، جبکہ جمہوری احتجاج کے دوران درج ہونے والے مقدمات کو اسی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
کیا تھا پورا معاملہ؟
واضح رہے کہ 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف طلبہ نے بڑا احتجاج اور پارلیمنٹ مارچ کیا تھا۔ اسی دوران ایک نابالغ طالبہ کی ویڈیو سامنے آئی تھی، جس میں اس پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر غیر شائستہ زبان استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔اس واقعے کے بعد روچیکا سنگھ نامی خاتون کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا، تاہم اب شکایت کنندہ کی جانب سے شکایت واپس لینے کے بعد اس معاملے کے قانونی طور پر ختم ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جس سے نابالغ طالبہ کے مستقبل پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات بھی ختم ہونے کی امید ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

