Bharat Express DD Free Dish

CJP Protest

جنترمنتر پرہوئے احتجاجی مظاہرہ کے دوران زخمی پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے ڈیوٹی کے دوران پولیس اہلکار کے لئے مضبوط قانونی سیکورٹی اور واضح گائیڈ لائن کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں تشدد بھڑکانے والوں کے احتساب اورپولیس اہلکاروں کی حفاظت کے لئے یکساں رہنما خطوط تیارکرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بہار کی سمراٹ چودھری کی  حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ 26 جولائی کی شام 6 بجے تک درج سبھی معاملات میں گرفتاراورزیر حراست افراد کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔

سینئروکیل اورراجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرممکن قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔ کپل سبل نے کہا کہ ملک میں جہاں کہیں بھی پرامن احتجاج کے دوران طلبا کونشانہ بنایا جائے گا اوران کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے، وہاں انھیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

سماجوادی پارٹی سربراہ نے حکومت سے پوچھا، طلبہ کے کون سے مطالبات تسلیم کیے گئے؟ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مقدمات کیوں درج کیے جا رہے ہیں؟ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ اتنی بڑی تحریک حکومت کی کوششوں سے ختم ہوئی یا حکومت نے طلبہ کے مطالبات تسلیم کرکے پسپائی اختیار کی؟

اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں گنگا ایکسپریس وے پر بہرائچ سے پنجاب جا رہی ایک ڈبل ڈیکر بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں دو مسافروں کی موت ہو گئی، جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کی ابتدائی جانچ کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ ڈرائیور کو سفر کے دوران آنے والی اونگھ یا نیند کی جھپکی بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی ۔

طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر راہل گاندھی نے وزیرداخلہ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ پرتشدد لاٹھی چارج  پیلیٹ گن اور آنسو گیس کے استعمال کی اجازت آپ نے دی تھی یا نہیں۔ پولیس کی کارروائی میں 19 سالہ طالب علم کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

سوربھ داس کے مطابق ویڈیوز اور تصاویر میں ایسے کئی پولیس اہلکار اور آر اے ایف کے جوان نظر آئے ہیں جو مظاہرین کے سروں پر لاٹھیاں مارتے اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام اہلکاروں کے خلاف جلد قانونی عمل شروع کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس کارروائی میں متعدد طلبہ کے سر اور ہاتھ شدید زخمی ہوئے تھے۔

حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے درمیان تین مرحلوں پر مشتمل مذاکرات کے بعد تمام اہم مطالبات پر اتفاقِ رائے ہو گیا۔ حکومت نے تعلیم سے متعلق پانچ نکاتی چارٹر پر غور و خوض اور اس پر بات چیت کا تحریری یقین دلایا ہے۔

دہلی میں اپنی تحریک کے اختتام کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے اپنے اگلے مرحلے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ تنظیم کے صدر ابھیجیت دیپکے نے اشارہ دیا ہے کہ دہلی کے بعد ان کی مہم یہیں ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اگلا احتجاج کہاں ہوگا اور کن مسائل پر کیا جائے گا، اس کا خاکہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

سی جے پی نے احتجاج واپس لے لیا: مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے چند ہی گھنٹوں بعد ہفتے کے روز حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے درمیان ایک اور اہم ملاقات ہوئی۔ بات چیت کے بعد CJP نے اپنا احتجاج واپس لینے کا اعلان کر دیا۔