دہلی میں اپنی تحریک کے بعد اب کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے اپنے اگلے مرحلے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ تنظیم کے صدر ابھیجیت دیپکے نے اشارہ دیا ہے کہ دہلی کے بعد ان کی مہم یہیں ختم نہیں ہوگی۔ اگلا احتجاج کہاں ہوگا اور کن مسائل پر کیا جائے گا، اس کا خاکہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ابھیجیت دیپکے نے یہ بات جنتر منتر پر دھرنے کے مقام پر کہی۔ وہاں موجود ایک لڑکی نے ان سے اگلے احتجاج کے بارے میں سوال کیا، جس کے جواب میں دیپکے نے کہا کہ تنظیم نے آئندہ کی حکمتِ عملی طے کر لی ہے۔
ابھیجیت دیپکے اگلا احتجاج کہاں کریں گے؟
سی جے پی کے صدر ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا کہ دہلی کے بعد ان کی تنظیم کا اگلا احتجاج بہار میں ہوگا۔ دراصل جنتر منتر پر احتجاج کے دوران ایک لڑکی نے اسٹیج پر موجود دیپکے سے سمرت چودھری کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ بہار سے سمرت چودھری کو بھی ہٹایا جائے۔ اس نے الزام لگایا کہ انہوں نے بہار کو برباد کر دیا ہے۔ لڑکی نے مزید کہا کہ انہیں بی جے پی نے اقتدار کی کرسی پر بٹھایا ہے، عوام نے انہیں منتخب نہیں کیا۔اس سوال کے جواب میں ابھیجیت دیپکے نے کہا، ’’میں کافی دنوں سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ اس احتجاج کے ختم ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کا پہلا پروگرام بہار کے پٹنہ میں ہی ہوگا۔‘‘
بہار میں کشیدگی
نیٹ (NEET) پیپر لیک، طلبہ پر لاٹھی چارج اور دیگر معاملات کے خلاف ہفتے کے روز بہار بند کی کال دی گئی تھی۔ بند کے دوران کئی اضلاع میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔بہار کے سیوان میں مظاہرین کی جانب سے کیے گئے پتھراؤ میں پولیس سپرنٹنڈنٹ پورن جھا زخمی ہو گئے، جس کے بعد پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔ تقریباً دس راؤنڈ فائرنگ کے باعث علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔ ادھر چھپرہ میں بھی طلبہ کا شدید احتجاج دیکھنے کو ملا، جہاں مشتعل ہجوم نے پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ اسی دوران طلبہ کی حمایت میں احتجاج میں شریک سابق وزیر تیج پرتاپ یادو کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


