سپریم کورٹ میں نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک اور 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ اور جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے معاملے کی آئندہ سماعت کے لیے 18 اگست 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق ریاستی حکومتیں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے یا بند کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اپنے سابقہ حکم میں “مجرمانہ ریکارڈ” سے مراد صرف سنگین اور گھناؤنے جرائم تھے۔مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشا ر مہتا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف درج مقدمات کے حوالے سے اپنے وعدے پر قائم ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ سنگین نوعیت کے مقدمات میں نامزد تقریباً 2700 طلبہ کے خلاف درج کیس واپس نہیں لیے جائیں گے۔
ایس آئی ٹی، پیلیٹ گن اور فیشل سرویلنس پر عدالت میں بحث
سپریم کورٹ نے کہا کہ 18 اگست کی سماعت میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کی تشکیل، احتجاج کے دوران پیلیٹ گن کے استعمال اور دیگر اہم معاملات پر غور کیا جائے گا۔ عدالت نے تمام ریاستوں کے چیف سیکریٹریز کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ سماعت سے قبل اپنے حلف نامے جمع کرائیں۔
ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایس آئی ٹی کا مطالبہ
درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل شیام دیوان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایس آئی ٹی کی سربراہی کسی ریٹائرڈ جج کے سپرد کی جائے یا پھر ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جائے، تاکہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل ہو سکیں۔
رازداری کی خلاف ورزی اور آدھار ڈیٹا کے استعمال پر اعتراض
سینئر وکیل ہری ہرن نے الزام عائد کیا کہ احتجاجی مقام پر طلبہ کی رضامندی کے بغیر بڑے پیمانے پر فیشل ریکگنیشن سرویلنس کا استعمال کیا گیا، جو رازداری کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔وہیں سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے احتجاج کے دوران آدھار ڈیٹا کے مبینہ استعمال پر سوالات اٹھائے، جبکہ سینئر وکیل ورندا گروور نے کہا کہ جموں و کشمیر کے بعد دہلی میں بھی اسی نوعیت کی نگرانی کی ٹیکنالوجی اور طاقت کا استعمال کیا گیا، جس کے لیے جاری سرکاری احکامات کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جانی چاہئیں۔
سابق فضائیہ افسر کی نئی درخواست پر 5 اگست کو سماعت
دریں اثنا، اس معاملے میں ایک نئی درخواست بھی دائر کی گئی ہے، جس پر سپریم کورٹ 5 اگست 2026 کو سماعت کرے گا۔ یہ درخواست بھارتی فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ افسر نے دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہوئی۔ درخواست گزار نے احتجاج کے منتظمین کی جوابدہی طے کرنے اور سوشل میڈیا پر نامناسب زبان استعمال کرنے والے نوجوانوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں کمیونٹی سروس کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


