Bharat Express DD Free Dish

Court Judgment

یہ فیصلہ گیمز کرافٹ ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ اور نردیشا نیٹ ورک پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست پر سنایا گیا۔ درخواست گزاروں نے 11 نومبر 2025 کو درج ای سی آئی آر اور اس کے بعد ای ڈی کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیوں کو چیلنج کیا تھا۔

سپریم کورٹ نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک اور جنتر منتر طلبہ احتجاج سے متعلق مقدمات کی اگلی سماعت 18 اگست کو کرے گی۔ عدالت نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے یا انہیں بند کرنے کا اختیار متعلقہ ریاستی حکومتوں کے پاس ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 33 سے بڑھا کر 37 کرنے کے لیے ترمیمی بل 2026 کو منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد عدالتی عمل کو تیز کرنا اور زیرِ التوا مقدمات کا جلد از جلد تصفیہ یقینی بنانا ہے۔

پونے پورش ہٹ اینڈ رن کیس میں سپریم کورٹ نے ملزم آشیش مِتّل، آدتیہ سود اور مبینہ ثالث امر گائیکواڑ کو مشروط ضمانت دے دی ہے۔ جسٹس بی وی ناگرَتنا کی سربراہی والی بنچ نے ضمانت دیتے ہوئے والدین کی ذمہ داری پر سخت تبصرہ کیا اور کہا کہ قانون کو ایسے والدین تک ضرور پہنچنا چاہیے جو بچوں کو وقت دینے کے بجائے پیسے اور لگژری کے ذریعے ان کی پرورش کرتے ہیں۔

ٹی ایم سی لیڈر مکل رائے کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے کولکاتا ہائی کورٹ کے انہیں نااہل قرار دینے کے حکم پر روک لگاتے ہوئے فریقین سے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے 2013 کے انڈین فاریسٹ سروس (IFS) کیس میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ جو امیدوار امتحان کے کسی بھی مرحلے میں رعایتی کٹ آف یا ریزرویشن کا فائدہ لیتا ہے، وہ بعد میں جنرل (عام) زمرے کی سیٹ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، چاہے اس کے نمبر کسی جنرل امیدوار سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔

دہلی فسادات اور یو اے پی اے کے مقدمات میں گرفتار عمر خالد، شرجیل امام، گل فشاں فاطمہ وغیرہ ملزمان کو اب تک کوئی ریلیف نہیں حاصل ہو سکی ہے۔ اب سپریم کورٹ 5 جنوری کو ان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنائے گی۔

2006 ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے کیس میں بری ہونے والے کمال احمد انصاری کے اہل خانہ اور قریبی افراد ان کی قبر پر جمع ہوئے اور بمبئی ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ بلند آواز میں پڑھا، جس نے ان کے انتقال کے چار سال بعد ان کا نام تمام الزامات سے بری قرار دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جرم کی شیطانی نوعیت اور یہ حقیقت کہ متاثرہ لڑکی مجرم کی بیٹی تھی اور اس کی دیکھ بھال اور تحفظ میں تھی، مجرم کے ذاتی حالات سے کہیں زیادہ ہے۔ اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔