لوک سبھا میں اپوزیشن کے حملوں کا جواب دینے کے لئے تیارہوگئے وزیرداخلہ امت شاہ، کرن رجیجو نے اپوزیشن کو کردیا چیلنج
وزیرداخلہ امت شاہ طلبا پر لاٹھی چارج کے موضوع پر جواب دینے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ وہ لوک سبھا میں اس کا جواب دیں گے۔ اسپیکر اوم برلا جلد ہی ان کے جواب کے لئے وقت متعین کریں گے۔ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ایوان میں طلبا پرلاٹھی چارج سے متعلق معاملے پر بیان دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔
Jharkhand Public Service Commission: اسمبلی کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر جھارکھنڈ پولیس نے واٹر کینن کا کیا استعمال
لوگوں سے انہیں ہیرو نہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے مہتو نے کہا، ’’میں کوئی بھگوان یا مسیحا نہیں ہوں، میں ایک عام آدمی ہوں۔ میری ذاتی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ لیکن بھوک ہڑتال سے زیادہ تکلیف کانٹے دار تاروں سے ہوتی ہے۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبہ نے بیریکیڈنگ کی تین تہیں عبور کرلی ہیں۔ مہتو نے سوال کیا کہ حکومت افراتفری کیوں چاہتی ہے اور طلبہ کے مطالبات کیوں نہیں مان رہی؟
Supreme Court: دہلی میں احتجاجی مظاہروں کے مقام پر سپریم کورٹ سخت، جنتر منتر کے متبادل مقام پر مرکز سے جواب طلب
سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ اگر جنتر منتر موجودہ حالات میں مناسب مقام نہیں تو کیا دہلی میں کسی دوسری جگہ کو احتجاجی مظاہروں کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کا تحفظ ہو اور دوسری جانب عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے،
Kangana Ranaut speaks on Gen Z again: کنگنا رناوت کا Gen-Z پر ایک اور بیان، کہا: آزادی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری بھی ہونی چاہیے
کنگنا رناوت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ پہلے ہی Gen-Z کے بارے میں اپنے سابقہ تبصرے کی وجہ سے تنازعات میں گھری ہوئی ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے نئی نسل کو "گٹر جنریشن" قرار دیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔درحقیقت یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب کنگنا نے سوشل میڈیا پر نئی نسل اور بعض بھارتی خواتین کے بارے میں سخت تبصرے کیے تھے۔
CJP protest at Delhi’s Jantar Mantar: میں بہت شرمندہ ہوں…وزیر اعظم مودی کو نازیبا الفاظ کہنے والی 15 سالہ لڑکی نے عوامی معافی
معافی کی ویڈیو سامنے آنے سے قبل رُچیکا کی والدہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی پولیس حکام کو تحریری معافی نامہ دے چکی ہیں اور اس واقعے پر انہیں شدید افسوس ہے۔ اسی معاملے میں اس سیلون کے مالک کا بیان بھی سامنے آیا، جہاں رُچیکا نے کچھ عرصہ کام سیکھنے کی کوشش کی تھی۔ سیلون مالک کے مطابق وہ صرف چند دن ہی وہاں آئیں، بعد میں آنا بند کر دیا اور بار بار کہنے کے باوجود اپنا آدھار کارڈ بھی جمع نہیں کرایا۔
Kangana Ranaut’s ‘Gutter’ Remark Sparks Uproar: کنگنا رناوت کےگٹر جنریشن بیان پر ہنگامہ برپا، کانگریس اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید
کنگنا کے اس بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات کو اب سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو اپنی زبان اور طرزِ بیان میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ادھر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر وارث پٹھان نے بھی کنگنا رناوت سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔
Omar Abdullah on Mehbooba Mufti: افسوس کا اظہار نہ کریں، باقاعدہ معافی مانگیں، محبوبہ مفتی کے وضاحتی بیان پر عمر عبداللہ کی سخت تنقید
محبوبہ مفتی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ہرگز کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ صرف یہ کہنا چاہتی تھیں کہ وادی میں دہشت گردی کے باعث سکیورٹی فورسز کے پاس کارروائی کا ایک "جواز" موجود ہوتا تھا۔
’’ڈراہا-دھمکایا اور چھاپہ مارا…‘‘ جنتر منتر پرطلبا کو کھانا کھلانے والے جنید نے سپریم کورٹ میں پولیس کے خلاف داخل کی عرضی، الزامات کی لمبی فہرست
دہلی کے جنترمنترپرسی جے پی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کے لئے کھانے کا انتظام کرنے والے جنید ملک نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے دہلی اورغازی آباد پولیس پرغیرقانونی حراست، دھمکانے اوراہل خانہ کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی مبینہ بربریت کوروکنے اورکسی بھی طرح کی تحقیقات قانونی دائرہ کارمیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Supreme Court on Student Protest: سپریم کورٹ سے مظاہرین کو بڑی راحت، عدالت نے سبھی گرفتار مظاہرین کی رہائی کا دیا حکم
عدالت نے سبھی ریاستوں کی پولیس کوان کے یہاں درج ایف آئی آر کی جانچ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگلی سماعت تک مظاہرین کے خلاف گرفتاری جیسی کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
Congress MP Rahul Gandhi: دہلی میں پیلیٹ گن، بہار میں اے کے-47، راہل گاندھی بولے- نریندرمودی جی جو وعدہ کیا گیا تھا، وہ آخر کہاں گیا؟
راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کو سننے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے انہیں طاقت کے زور پر خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد بہار میں طلبہ کے احتجاج اور حکومت کے رویے پر سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔





