Bharat Express DD Free Dish

Jantar Mantar Protest

 کانگریس لیڈر راہل گاندھی اورکانگریس لیڈران کے دھرنے کے بعد دہلی پولیس پیلیٹ گن معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے جا رہی ہے۔ لیڈران نے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

کمیٹی میں پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس روی شنکرجھا، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس شالندرکور، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور میگھالیہ کے ریٹائرڈ ڈائریکٹرجنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ڈاکٹر ایل آربشنوئی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے تحاشہ استعمال کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

این ڈی اے کی میٹنگ ختم ہونے کے بعد اتحادی جماعتوں کے تمام ارکان پارلیمنٹ پیدل مارچ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب روانہ ہوئے۔ اس مارچ کے ذریعے پارلیمنٹ میں مختلف مسائل پر بحث شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ خاص طور پر جھارکھنڈ میں طلبہ کے احتجاج اور مبینہ لاٹھی چارج کا معاملہ اٹھایا گیا۔مارچ کے دوران این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ نے اپوزیشن کے خلاف پوسٹرز بھی دکھائے۔

 وزیرداخلہ امت شاہ طلبا پر لاٹھی چارج کے موضوع پر جواب دینے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ وہ لوک سبھا میں اس کا جواب دیں گے۔ اسپیکر اوم برلا جلد ہی ان کے جواب کے لئے وقت متعین کریں گے۔ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ایوان میں طلبا پرلاٹھی چارج سے متعلق معاملے پر بیان دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔

لوگوں سے انہیں ہیرو نہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے مہتو نے کہا، ’’میں کوئی بھگوان یا مسیحا نہیں ہوں، میں ایک عام آدمی ہوں۔ میری ذاتی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ لیکن بھوک ہڑتال سے زیادہ تکلیف کانٹے دار تاروں سے ہوتی ہے۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبہ نے بیریکیڈنگ کی تین تہیں عبور کرلی ہیں۔ مہتو نے سوال کیا کہ حکومت افراتفری کیوں چاہتی ہے اور طلبہ کے مطالبات کیوں نہیں مان رہی؟

سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ اگر جنتر منتر موجودہ حالات میں مناسب مقام نہیں تو کیا دہلی میں کسی دوسری جگہ کو احتجاجی مظاہروں کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کا تحفظ ہو اور دوسری جانب عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے،

کنگنا رناوت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ پہلے ہی Gen-Z کے بارے میں اپنے سابقہ تبصرے کی وجہ سے تنازعات میں گھری ہوئی ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے نئی نسل کو "گٹر جنریشن" قرار دیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔درحقیقت یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب کنگنا نے سوشل میڈیا پر نئی نسل اور بعض بھارتی خواتین کے بارے میں سخت تبصرے کیے تھے۔

معافی کی ویڈیو سامنے آنے سے قبل رُچیکا کی والدہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی پولیس حکام کو تحریری معافی نامہ دے چکی ہیں اور اس واقعے پر انہیں شدید افسوس ہے۔ اسی معاملے میں اس سیلون کے مالک کا بیان بھی سامنے آیا، جہاں رُچیکا نے کچھ عرصہ کام سیکھنے کی کوشش کی تھی۔ سیلون مالک کے مطابق وہ صرف چند دن ہی وہاں آئیں، بعد میں آنا بند کر دیا اور بار بار کہنے کے باوجود اپنا آدھار کارڈ بھی جمع نہیں کرایا۔

کنگنا کے اس بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات کو اب سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو اپنی زبان اور طرزِ بیان میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ادھر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر وارث پٹھان نے بھی کنگنا رناوت سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔

 محبوبہ مفتی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ہرگز کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ صرف یہ کہنا چاہتی تھیں کہ وادی میں دہشت گردی کے باعث سکیورٹی فورسز کے پاس کارروائی کا ایک "جواز" موجود ہوتا تھا۔