Bharat Express DD Free Dish

Jantar Mantar Protest

 وزیرداخلہ امت شاہ طلبا پر لاٹھی چارج کے موضوع پر جواب دینے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ وہ لوک سبھا میں اس کا جواب دیں گے۔ اسپیکر اوم برلا جلد ہی ان کے جواب کے لئے وقت متعین کریں گے۔ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ایوان میں طلبا پرلاٹھی چارج سے متعلق معاملے پر بیان دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔

لوگوں سے انہیں ہیرو نہ بنانے کی اپیل کرتے ہوئے مہتو نے کہا، ’’میں کوئی بھگوان یا مسیحا نہیں ہوں، میں ایک عام آدمی ہوں۔ میری ذاتی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ لیکن بھوک ہڑتال سے زیادہ تکلیف کانٹے دار تاروں سے ہوتی ہے۔‘‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبہ نے بیریکیڈنگ کی تین تہیں عبور کرلی ہیں۔ مہتو نے سوال کیا کہ حکومت افراتفری کیوں چاہتی ہے اور طلبہ کے مطالبات کیوں نہیں مان رہی؟

سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ اگر جنتر منتر موجودہ حالات میں مناسب مقام نہیں تو کیا دہلی میں کسی دوسری جگہ کو احتجاجی مظاہروں کے لیے مختص کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک طرف شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کا تحفظ ہو اور دوسری جانب عام لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو۔عدالت نے اپنے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے،

کنگنا رناوت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ پہلے ہی Gen-Z کے بارے میں اپنے سابقہ تبصرے کی وجہ سے تنازعات میں گھری ہوئی ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے نئی نسل کو "گٹر جنریشن" قرار دیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔درحقیقت یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب کنگنا نے سوشل میڈیا پر نئی نسل اور بعض بھارتی خواتین کے بارے میں سخت تبصرے کیے تھے۔

معافی کی ویڈیو سامنے آنے سے قبل رُچیکا کی والدہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی پولیس حکام کو تحریری معافی نامہ دے چکی ہیں اور اس واقعے پر انہیں شدید افسوس ہے۔ اسی معاملے میں اس سیلون کے مالک کا بیان بھی سامنے آیا، جہاں رُچیکا نے کچھ عرصہ کام سیکھنے کی کوشش کی تھی۔ سیلون مالک کے مطابق وہ صرف چند دن ہی وہاں آئیں، بعد میں آنا بند کر دیا اور بار بار کہنے کے باوجود اپنا آدھار کارڈ بھی جمع نہیں کرایا۔

کنگنا کے اس بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات کو اب سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو اپنی زبان اور طرزِ بیان میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ادھر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر وارث پٹھان نے بھی کنگنا رناوت سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔

 محبوبہ مفتی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ہرگز کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ صرف یہ کہنا چاہتی تھیں کہ وادی میں دہشت گردی کے باعث سکیورٹی فورسز کے پاس کارروائی کا ایک "جواز" موجود ہوتا تھا۔

دہلی کے جنترمنترپرسی جے پی کے احتجاج کے دوران مظاہرین کے لئے کھانے کا انتظام کرنے والے جنید ملک نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے دہلی اورغازی آباد پولیس پرغیرقانونی حراست، دھمکانے اوراہل خانہ کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی مبینہ بربریت کوروکنے اورکسی بھی طرح کی تحقیقات قانونی دائرہ کارمیں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

عدالت نے سبھی ریاستوں کی پولیس کوان کے یہاں درج ایف آئی آر کی جانچ جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگلی سماعت تک مظاہرین کے خلاف گرفتاری جیسی کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کو سننے اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے انہیں طاقت کے زور پر خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد بہار میں طلبہ کے احتجاج اور حکومت کے رویے پر سیاسی بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔