Bharat Express DD Free Dish

Omar Abdullah on Mehbooba Mufti: افسوس کا اظہار نہ کریں، باقاعدہ معافی مانگیں، محبوبہ مفتی کے وضاحتی بیان پر عمر عبداللہ کی سخت تنقید

 محبوبہ مفتی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ہرگز کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ صرف یہ کہنا چاہتی تھیں کہ وادی میں دہشت گردی کے باعث سکیورٹی فورسز کے پاس کارروائی کا ایک “جواز” موجود ہوتا تھا۔

نئی دہلی : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کے حالیہ بیان پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف افسوس کا اظہار کافی نہیں، بلکہ انہیں اپنے بیان پر واضح طور پر معافی مانگنی چاہیے۔ عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ محبوبہ مفتی نے کشمیر میں شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو درست قرار دینے والا تاثر دیا، جس پر اب تک انہوں نے حقیقی معنوں میں معافی نہیں مانگی۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب محبوبہ مفتی نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ (این ای ای ٹی)  پیپر لیک معاملے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر کے حالات مختلف تھے کیونکہ وہاں سکیورٹی فورسز دہشت گردی سے نبرد آزما تھیں۔ ان کے اس بیان کو وادی میں پہلی مرتبہ پیلٹ گن کے استعمال کے دفاع کے طور پر دیکھا گیا، جس پر سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر سخت تنقید سامنے آئی۔

 محبوبہ مفتی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ہرگز کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ صرف یہ کہنا چاہتی تھیں کہ وادی میں دہشت گردی کے باعث سکیورٹی فورسز کے پاس کارروائی کا ایک “جواز” موجود ہوتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے الفاظ سے کسی کو دکھ پہنچا ہے تو انہیں اس پر افسوس ہے۔تاہم عمر عبداللہ نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسوس اور معافی میں واضح فرق ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محبوبہ مفتی نے کہیں بھی “میں معافی مانگتی ہوں” جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ “اگر میری بات سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو مجھے افسوس ہے”، تو یہ حقیقی معافی نہیں بلکہ ایک مشروط اظہارِ افسوس ہوتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ “افسوس” اور “معافی” دو الگ چیزیں ہیں۔ ان کے مطابق اصل معافی وہ ہوتی ہے جس میں اپنی غلطی کو واضح طور پر تسلیم کیا جائے، نہ کہ “اگر” جیسے الفاظ کے ذریعے ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی جائے۔عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پارہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے ابتدائی طور پر محبوبہ مفتی کی ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ قرار دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پانچ دن تک عوام کو گمراہ کیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ ویڈیو جعلی ہے، لیکن بعد میں خود محبوبہ مفتی نے تسلیم کر لیا کہ ویڈیو میں کسی قسم کی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال نہیں ہوئی تھی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو لوگ مسلسل غلط معلومات پھیلاتے رہے، کیا انہیں اپنی ذمہ داری قبول نہیں کرنی چاہیے؟ عمر عبداللہ کے مطابق وحید پارہ جیسے عوامی نمائندوں کو بھی اپنے دعووں پر معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ ان کی اپنی جماعت کی صدر کے بیان نے ان کے دعووں کی تردید کر دی ہے۔ اس معاملے نے جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں محبوبہ مفتی کے بیان اور اس پر آنے والے ردعمل نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read