Bharat Express DD Free Dish

Mehbooba Mufti

محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں کو مبینہ طور پر ہراساں کئے جانے، مقامی ملازمین کو ملازمتوں سے نکالے جانے اور قبائلی برادریوں کے خلاف کارروائیوں پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں کشمیریوں کو کیوں مارا پیٹا جاتا ہے؟ ہمارے لوگ جیلوں میں کیوں ہیں، کشمیری افسروں کو ان کی ملازمتوں سے کیوں نکالا جا رہا ہے اور ہمارے قبائلی لوگوں کو ان کی زمینوں سے کیوں بے دخل کیا جا رہا ہے؟

جموں و کشمیر میں برسراقتدار نیشنل کانفرنس (این سی) بدھ کے روز ریاست کا درجہ بحال کرنے، آئینی تحفظ اور جموں و کشمیر سے متعلق دیگر مسائل کے مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہی ہے۔ وہیں، بی جے پی نے نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سول سیکریٹریٹ تک احتجاجی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سونمرگ جموں و کشمیر کا ایک اہم سیاحتی مقام ہے، جہاں حالیہ دنوں میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف انتظامیہ نے کارروائی تیز کی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماحولیات کے تحفظ اور بے قابو تعمیرات کو روکنے کے لیے یہ کارروائی ضروری ہے۔

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا- ایل اوسی کے اس پارسے جو تصاویر سامنے آرہی ہیں وہ دل کو تکلیف دینے والی ہیں۔ پُرامن مظاہرین پرطاقت کا استعمال کیا جانا مایوس کن ہے۔

 محبوبہ مفتی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ہرگز کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ صرف یہ کہنا چاہتی تھیں کہ وادی میں دہشت گردی کے باعث سکیورٹی فورسز کے پاس کارروائی کا ایک "جواز" موجود ہوتا تھا۔

پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے جنتر منتر پر احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج یہ ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے حالات بدتر ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو انہوں نے کھلی جیل بنایا ہے، پورے ملک کو یہ کھلی جیل بنا دیں گے۔ حکومت بہت مغرور ہوگئی ہے۔ اب اگر تبدیلی لائیں گے تو یہی نوجوان لائیں گے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ صرف ریاست کا درجہ بحال کرنے تک محدود احتجاج میں شریک ہونا، آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے ہماری وسیع آئینی جدوجہد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔

ایرانی حکومت نے صرف محبوبہ مفتی ہی نہیں بلکہ کشمیر اور لداخ کی کئی اہم شخصیات کو بھی سفارتی ذرائع کے ذریعے دعوت نامے روانہ کیے ہیں۔ دعوت پانے والوں میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ اور شیعہ لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے لیڈر عمران انصاری، لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ، معروف شیعہ عالم مسرور عباس انصاری اور آغا سید حسن موسوی الصفوی شامل ہیں

جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی اور پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی کا ایکس اکاؤنٹ بھارت میں بلاک کر دیا گیا ہے۔ اب جب ان کا اکاؤنٹ انڈیا میں کھولا جاتا ہے تو ایک پیغام آتا ہے، جس میں لکھا ہے کہ یہ اکاؤنٹ قانونی مطالبے کے جواب میں محدود کردیا گیا ہے۔

حکم نامے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے کالعدم تنظیم جماعت اسلامی کے ساتھ گہرے اور خفیہ روابط رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جماعت اسلامی کو بھارت سرکار نے سنہ 2019 میں پابندی عائد کرکے غیر قانونی قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس تنظیم سے وابستہ افراد ادارے کے انتظامی اور تدریسی امور میں شامل رہے اور ادارے کے کام کاج پر ان کا اثر و رسوخ پایا گیا۔