Bharat Express DD Free Dish

Mehbooba Mufti

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کے حوالے سے خبر آئی تھی کہ ان کی پارٹی انڈیا الائنس کے ساتھ مل کرالیکشن نہیں لڑے گی اور وہ تمام سیٹوں پرامیدوار اتارے گی۔

پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی نے انڈیا الائنس کے ساتھ الیکشن لڑنے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی جموں وکشمیر میں اکیلے الیکشن لڑے گی۔

خبر ہے کہ محبوبہ مفتی اننت ناگ جارہی تھیں اسی دوران یہ حادثہ پیش آیا ۔ اس حادثے میں  محبوبہ مفتی کی کار چلانے والے ڈرائیور کے زخمی ہونے کی خبر مل رہی ہے ۔ یہ حادثہ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سونہ مرگ میں پیش آیا ہے۔

جموں و کشمیر پولیس اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا دونوں نے محبوبہ مفتی کو نظر بند کیے جانے کے دعوے کی تردید کی ہے۔ ایک بیان میں، پولیس نے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو گھر میں نظر بند نہیں کیا گیا ہے۔

خبر آئی ہے کہ سپریم کورٹ نے 11 دسمبر بروز سوموار کو اس پر فیصلہ سنانے کا اعلان کیا ہے ۔ سپریم کورٹ میں فیصلے کی تاریخ 11 دسمبر رکھی گئی ہے جس پر اب مرکزی سرکار سے لیکر جموں کشمیر کی سیاسی وسماجی شخصیات کے ساتھ ہی عام عوام کی بھی نظریں ہیں اور خاص طور پر پڑوسی ملک پاکستان بھی اس کی طرف گہر نظر رکھے ہوا ہے۔

جموں وکشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ راہل گاندھی کو راون بتانا بی جے پی کی بوکھلاہٹ اور مایوسی کو دکھاتا ہے، کیا یہی سناتن دھرم سکھاتا ہے، سناتن مذہب تو لوگوں سے محبت کرنا سکھاتا ہے۔

علاقے میں انتخابات کرانے والے عہدیداروں کے مطابق دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی بھی ان انتخابات میں اپنی قسمت آزما رہی ہے۔ AAP نے ان انتخابات میں قسمت آزمانے کے لیے 4 امیدواروں کو موقع دیا ہے۔ یہی نہیں، عہدیداروں نے بتایا کہ کل 25 آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے یہاں ایک پارٹی پروگرام کے موقع پر نامہ نگاروں سے کہا، ''کیا مجھے اپنے خیالات پیش نہیں کرنے چاہئیں؟ میں نے اپنی پارٹی کا موقف بیان کیا تھا اور یہ میرا حق ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا، "یہ بل یو پی اے کے دور حکومت میں راجیہ سبھا میں پاس ہوا تھا، لیکن لوک سبھا میں پاس نہیں ہو سکا کیونکہ کئی علاقائی پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی تھی

مرکزی حکومت نے کئی امریکی مصنوعات جیسے چنے، دال اور سیب پر امپورٹ ڈیوٹی 35 فی صد سے 15 فی صد کر دی ہے۔ یہ ٹیکس ابتدائی طور پر 2019 میں امریکہ کی جانب سے اسٹیل اور ایلومینیم اشیاء پر محصولات بڑھانے کے فیصلے کے جواب میں عائد کیے گئے تھے۔