Bharat Express DD Free Dish

Mehbooba Mufti

اسرائیلی حملوں میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے بعد جموں و کشمیر میں مسلسل احتجاج دیکھنے کو ملا ہے۔ سری نگر سمیت کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر مختار عباس نقوی نے بھی ایرانی سفارت خانے جا کر تعزیتی رجسٹر پر دستخط کیے اور خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقات کر کے تعزیت پیش کی اور بھارت کے امن کے موقف کو دہرایا۔ نقوی نے کہا: ’’ہم ایران کے سپریم لیڈر حضرت علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے ہیں۔ بھارت، جو بدھ کی سرزمین ہے، ہمیشہ امن کا حامی رہا ہے۔‘‘

ایران پراسرائیل-امریکہ کے مبینہ حملے کی مخالفت میں جموں وکشمیر میں کئی مقامات پراحتجاج ہوئے۔ پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے سری نگر میں اسرائیلی وزیراعظم اورامریکی صدر کے پوسٹرجلائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آغا روح اللہ اور جنید مٹّوپرایف آئی آر کی مذمت کی۔

محبوبہ مفتی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے بحرین میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔

دسمبر 2025 میں التجا مفتی نے بہار کے وزیراعلیٰ نیتیش کمار کے خلاف ‘حجاب’ تنازعہ پر کیس درج کروایا تھا۔ ایک وائرل ویڈیو کے بعد تنازعہ کھڑا ہوا تھا، جس میں بہار کے وزیراعلیٰ کو ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کا حجاب ہٹاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ شکایت میں انہوں نے بہار کے وزیراعلیٰ پر بھارتی خواتین کی عزت کے لیے توہین آمیز اور ناقابل قبول تبصرے کرنے کا الزام لگایا تھا۔

جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اس حملے کو محض ایک مجرمانہ فعل نہیں بلکہ شناخت کی بنیاد پر تشدد کی سنگین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ بھارت کی آئینی اقدار، قومی یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی پر سیدھے حملہ ہے۔

فاروق عبداللہ منگل کے روز جموں میں نیشنل کانفرنس کے بلاک صدور کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت بلاک سطح کے کارکنان اور عہدیداروں کی باتیں سن رہی ہے، ان کے مسائل سے آگاہ ہو رہی ہے اور تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

محبوبہ مفتی نے اپنی پوسٹ میں جاوید اختر کی اہلیہ شبانہ اعظمی کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ شبانہ اعظمی نے خود کھل کر بتایا تھا کہ انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے بمبئی جیسے جدید اور جامع شہر میں بھی مکان دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمار کے رویے سے محبوبہ مفتی نتیش کمار کے رویے سے پریشان نظر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ یا تو بڑھاپے کا نتیجہ ہوسکتا ہے یا نتیش کمار مسلم خواتین کی توہین کررہے ہیں۔ یہ خوفناک ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "اگر کوئی پڑھا لکھا نوجوان، ایک ڈاکٹر، اپنے جسم پر RDX باندھ کر خود کو اور دوسروں کوختم کردیتا  ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ملک میں کوئی سیکورٹی نہیں ہے، آپ ہندو مسلم سیاست کھیل کر ووٹ حاصل کر سکتے ہیں،