Bharat Express DD Free Dish

Mehbooba Mufti

جموں وکشمیر اسمبلی میں وقف ایکٹ پر تجویز منظور نہیں ہو پائی ہے، جس سے سیاسی پارٹیوں میں تشویش ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے اس پرمیٹنگ بلائی۔ پارٹی لیڈران نے اسمبلی کی اس خاموشی پرسنگین اعتراض ظاہرکیا ہے اوروقف املاک کی بدانتظامی کو روکنے کے لئے مناسب قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس معاملے پرحکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز جیل میں بند ایک پولیس اہلکار سمیت تین سرکاری ملازمین کو عسکریت پسندوں کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں برطرف کر دیا تھا۔ برطرف ملازمین میں پولیس کانسٹیبل فردوس احمد بھٹ، استاد محمد اشرف بھٹ اور محکمہ جنگلات کے اردلی نثار احمد خان شامل ہیں۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ انہیں جموں کے سرکٹ ہاؤس میں حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ سب جموں و کشمیر پولیس نے ان کی پریس کانفرنس کو منسوخ کرنے کے لیے کیا ہے۔

پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی کے ہندوتوا کے حوالے سے دیے گئے اس بیان پر سیاست رکی بھی نہیں تھی کہ انہوں نے دوبارہ ہندو مزہب کے حوالے سے ایکس پر پوسٹ کیا ہے۔

پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے سوشل میڈیا پر ہندوتوا کا حوالہ دیتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس کی وجہ سے اب ملک میں سیاست گرم ہوگئی ہے۔ انہوں نے یہ تبصرہ ایکس پر ایک صارف کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو میں ایک لڑکا نابالغ بچوں کو چپلوں سے خوب مار رہا ہے اور روتے ہوئے بچے جئے شری رام کے نعرے لگا رہے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو مدھیہ پردیش کے رتلام ضلع کا ہے۔

عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کے رہنما وحید پرا کی جانب سے آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے پیش کی گئی قرارداد پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی عوام 5 اگست 2019 کے فیصلے کو منظور نہیں کرتی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر لوگوں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہوتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔

صورتحال کو قبول کرتے ہوئے، انہوں نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر پوسٹ کیا اور کہا، "میں لوگوں کے فیصلے کو قبول کرتی ہوں مجھے سری گفوارہ بجبہاڑہ کے لوگوں سے جو پیار اور محبت ملی ہے وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔ "میرے پی ڈی پی کارکنوں کا شکریہ جنہوں نے اس انتخابی مہم کے دوران سخت محنت کی۔"

تمام پولنگ ایجنسیوں نے جموں خطہ میں بی جے پی کے لیے واضح اکثریت کی پیش گوئی کی ہے، حالانکہ کانگریس-این سی اتحاد بھی خطے میں ایک چیلنج بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

جموں و کشمیر میں، جس کی 90 اسمبلی سیٹیں ہیں، بی جے پی، کانگریس، این ای سی اے اور پی ڈی پی سمیت کئی علاقائی پارٹیاں بھی کوششیں کر رہی ہیں۔ ان تمام جماعتوں کے امیدواروں کی جیت یا ہار کا فیصلہ 8 اکتوبر کو ہی ہو گا۔ یہاں تین مرحلوں میں انتخابات ہوئے۔