Bharat Express DD Free Dish

NEET Paper Leak

امت شاہ نے اپوزیشن سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوپہر 2 بجے تک اسپیکر کو خط دے دیں، حکومت 3 بجے سے بحث شروع کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ اگلے دن 3 بجے تک تمام سوالات کے جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ اپوزیشن کو کرنا ہے کہ وہ بحث چاہتی ہے یا ہنگامہ۔یہ بیان نیٹ پیپر لیک اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کی مبینہ سخت کارروائی پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان آیا ہے۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس گزشتہ کئی دنوں سے قومی اہلیت و داخلہ امتحان کے پرچہ لیک معاملے اور 20 جولائی کو جنتر منتر میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے مسئلے پر بار بار متاثر ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ جنتر منتر مظاہرے کے دوران پولیس کی فائرنگ کے معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آکر جواب دیں۔

معافی کی ویڈیو سامنے آنے سے قبل رُچیکا کی والدہ نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پہلے ہی پولیس حکام کو تحریری معافی نامہ دے چکی ہیں اور اس واقعے پر انہیں شدید افسوس ہے۔ اسی معاملے میں اس سیلون کے مالک کا بیان بھی سامنے آیا، جہاں رُچیکا نے کچھ عرصہ کام سیکھنے کی کوشش کی تھی۔ سیلون مالک کے مطابق وہ صرف چند دن ہی وہاں آئیں، بعد میں آنا بند کر دیا اور بار بار کہنے کے باوجود اپنا آدھار کارڈ بھی جمع نہیں کرایا۔

بہار میں نیٹ پیپر لیک معاملے کو لے کر طلبہ کے احتجاج کے دوران تیج پرتاپ یادو بھی مظاہرین کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ اس دوران پولیس نے انہیں گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا تھا، جس کے بعد انہیں پٹنہ کی بیور جیل میں رکھا گیا۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ مسلسل وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری اور ریاستی حکومت پر حملہ آور ہیں۔پولیس کے مطابق تیج پرتاپ یادو کے خلاف بہار بند اور احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ تشدد سے متعلق مقدمہ درج کیا گیا تھا،

کنگنا کے اس بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات کو اب سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں کو اپنی زبان اور طرزِ بیان میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ادھر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر وارث پٹھان نے بھی کنگنا رناوت سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے دسویں، بارہویں اور نیٹ  سمیت مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسلسل بے ضابطگیوں سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے نیٹ امتحان سے متعلق ان طلبہ کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی جان گنوائی، اور متاثرہ خاندانوں کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ دہرایا۔

 محبوبہ مفتی نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ہرگز کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جائز قرار دینا نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ صرف یہ کہنا چاہتی تھیں کہ وادی میں دہشت گردی کے باعث سکیورٹی فورسز کے پاس کارروائی کا ایک "جواز" موجود ہوتا تھا۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ مضبوط جمہوریت کے لیے خود نظم و ضبط بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے عدالت کی غیر جانبدارانہ انداز میں معاونت کرنے کی اپیل کی۔ مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ حکومت اس معاملے میں مکمل غیر جانبداری کے ساتھ عدالت کی معاونت کرے گی۔

بل پیش ہونے کے بعد لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ارکان کو اس پر ترامیم پیش کرنے کے لیے دوپہر ایک بجے تک کا وقت دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم بل ہے، جس پر ایوان اور ملک کی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتیں کافی عرصے سے اس موضوع پر قانون سازی کا مطالبہ کر رہی تھیں اور یہ امتحانی نظام میں اصلاحات کی سمت پہلا اہم قدم ہے۔

مجوزہ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے تمام مقدمات کی تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوں گی۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت دی جائے گی تاکہ ان مقدمات کی تیز رفتار سماعت ممکن ہو سکے۔ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد عدالت کو تین ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔