Bharat Express DD Free Dish

NEET Paper Leak

  انہوں نے مزید کہا کہ "ڈی پی کے پی اے"، جو ان کی والدہ کو یہ پوسٹ ہٹانے کے لیے پیغامات بھیج رہے ہیں، انہیں وہ یقین دلانا چاہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔ مانا جا رہا ہے کہ "ڈی پی" سے ان کی مراد دھرمیندر پردھان ہیں۔ اپنی اسٹوری کے اختتام پر انہوں نے لکھا، "فکر نہ کریں، یہ پوسٹ ڈیلیٹ نہیں ہوگی۔

اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں گنگا ایکسپریس وے پر بہرائچ سے پنجاب جا رہی ایک ڈبل ڈیکر بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں دو مسافروں کی موت ہو گئی، جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کی ابتدائی جانچ کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ ڈرائیور کو سفر کے دوران آنے والی اونگھ یا نیند کی جھپکی بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی ۔

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ مودی حکومت کے لیے ملک اور نوجوان سب سے زیادہ اہم ہیں اور پیپر لیک کے معاملے میں سخت کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے دھرمیندر پردھان کی بطور وزیر تعلیم خدمات اور اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مفادات پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سوربھ داس کے مطابق ویڈیوز اور تصاویر میں ایسے کئی پولیس اہلکار اور آر اے ایف کے جوان نظر آئے ہیں جو مظاہرین کے سروں پر لاٹھیاں مارتے اور حد سے زیادہ طاقت استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام اہلکاروں کے خلاف جلد قانونی عمل شروع کیا جائے گا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس کارروائی میں متعدد طلبہ کے سر اور ہاتھ شدید زخمی ہوئے تھے۔

وزیراعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ 2029 کے انتخابات کے بعد ملک کو تقریباً 42 یا 45 سال عمر کا نوجوان وزیراعظم ملے، نہ کہ 80 سال کا شخص۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نئی سوچ اور نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔انہوں نے اتر پردیش کے محکمۂ مال کی اس مبینہ فہرست پر بھی سوال اٹھایا۔

ٹرولرز کو سخت جواب دیتے ہوئے سونم وانگچک نے کہا، "اگر مجھے کوئی سودا ہی کرنا ہوتا تو کیا میں 26 دن تک بھوکا رہتا؟ جو لوگ سمجھوتے کرتے ہیں، وہ اس طرح سڑکوں پر بیٹھ کر نہیں کرتے بلکہ آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر فیصلے ہوتے ہیں۔ افسوس ایسے معاشرے پر جہاں اس قسم کی سوچ پروان چڑھے اور ایسے گھٹیا خیالات جنم لیں۔"کر دیا تھا۔

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے 24 گھنٹوں کے دوران چھٹا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ این ٹی اے ہی نیٹ-یو جی امتحان کا انعقاد کرتی ہے۔ اس سال مئی میں پیپر لیک کے بعد امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا اور جون میں دوبارہ امتحان منعقد کیا گیا۔

اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے باعث لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن ارکان پیپر لیک معاملے پر حکومت سے جواب طلب کر رہے ہیں اور وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہرا رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کی سب سے بڑی ترجیح یہ تھی کہ طلبہ کا ایک تعلیمی سال ضائع نہ ہونے پائے، اسی لیے کم سے کم وقت میں دوبارہ امتحانات کا انعقاد کرایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اپنی پوری صلاحیت استعمال کرتے ہوئے تقریباً 22 لاکھ طلبہ کے امتحانات کا کامیاب انعقاد کیا، جس کے نتائج بھی حال ہی میں جاری کر دیے گئے ہیں۔

وانگچک نے کہا کہ ان کا یہ فیصلہ طویل مذاکرات، متعدد شرائط پر اتفاق اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی ایک ویڈیو جاری کرکے ان تمام شرائط اور حکومت کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن رہیں، ہوشیار رہیں اور کسی بھی صورت میں تشدد یا قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔