Bharat Express DD Free Dish

لوک سبھا میں اپوزیشن کے حملوں کا جواب دینے کے لئے تیارہوگئے وزیرداخلہ امت شاہ، کرن رجیجو نے اپوزیشن کو کردیا چیلنج

 وزیرداخلہ امت شاہ طلبا پر لاٹھی چارج کے موضوع پر جواب دینے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ وہ لوک سبھا میں اس کا جواب دیں گے۔ اسپیکر اوم برلا جلد ہی ان کے جواب کے لئے وقت متعین کریں گے۔ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ایوان میں طلبا پرلاٹھی چارج سے متعلق معاملے پر بیان دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کی کارروائی میں مسلسل رکاوٹ آرہی ہے۔ فی الحال گزشتہ کئی دن مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ایوان میں طلبا پرلاٹھی چارج سے متعلق معاملے پر بیان دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ اب خبرہے کہ وزیرداخلہ لاٹھی چارج کے موضوع پرجواب دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ اب خبرہے کہ وزیرداخلہ لاٹھی چارج کے موضوع پرجواب دینے کوتیارہوگئے ہیں۔ وہ لوک سبھا میں اس کا جواب دیں گے۔ مانا جا رہا ہے کہ اسپیکرجلد ہی وزیرداخلہ کے جواب کا وقت طے کریں گے۔

پارلیمنٹ سیشن کے بارباررخنہ اندازی کرنے کے لئے اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ پرنشانہ سادھتے ہوئے مرکزی وزیرکرن رجیجونے آج پیرکوکہا، ”حکومت کی طرف سے بہت ہی واضح الفاظ میں کہہ دیا گیا ہے کہ طلبا کا احتجاج اوراس سے متعلق جوبھی چیزیں ہیں، اس پرحکومت تفصیل سے تبادلہ خیال کرنے کے لئے تیارہے۔“

بحث کے دوران آپ ہنگامہ نہیں کریں گے: کرن رجیجو

انہوں نے کہا، “میں اپوزیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ چونکہ حکومت طلبا کی تحریک پربات چیت کے لئے تیارہے، اس لئے آپ بحث کے دوران کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے اوروزیرداخلہ اورحکومت کے جوابات کومکمل طورپرپُرامن طریقے سے سنیں گے۔” کرن رجیجونے یہ بھی کہا کہ حکومت طلبا تحریک پربات چیت کے لئے تیارہے۔ تاہم کانگریس، سماج وادی پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان کچھ اختلافات ہیں۔ اس سے قبل، کانگریس کے قومی صدرملیکا ارجن کھڑگے نے آج پھر سے امت شاہ کے ایوان میں بیان دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’’لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ امت شاہ ایوان میں آئے اوروہ اپنی بات رکھیں۔ ہم 17 دنوں سے پوری کوشش کررہے ہیں کہ وہ ایوان میں آکرمیں بچوں کے ساتھ جونا انصافی ہوئی ہے، اس پربیان دیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read