Bharat Express DD Free Dish

Parliament Mansoon Session

 وزیرداخلہ امت شاہ طلبا پر لاٹھی چارج کے موضوع پر جواب دینے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ وہ لوک سبھا میں اس کا جواب دیں گے۔ اسپیکر اوم برلا جلد ہی ان کے جواب کے لئے وقت متعین کریں گے۔ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے ایوان میں طلبا پرلاٹھی چارج سے متعلق معاملے پر بیان دینے کے مطالبہ کے ساتھ کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔

اپوزیشن نے نیٹ-یوجی پیپرلیک ہونے پرمرکزی وزیرتعلیم دھرمیندرپردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا، جس کے بعد مسلسل پانچویں دن پارلیمنٹ ہنگامے کی نذرہوگیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ دھرمیندرپردھان کا استعفیٰ، وزیراعظم مودی کی معافی اورمجرموں کے خلاف کارروائی بحث کی شرائط ہیں۔ حکومت بحث چاہتی ہے، لیکن اپوزیشن جوابدہی کی بات کررہا ہے۔

مانسون سیشن کے دوسرے دن بھی پارلیمنٹ میں خوب ہنگامہ ہوا۔ پیپرلیک پر بحث کا مطالبہ اور طلبا پرہوئے لاٹھی چارج سے متعلق اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے دونوں ایوانوں میں حکومت کو گھیرا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکا ارجن کھڑگے نے مائیک بند کرنے کا الزام لگایا۔

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی کوشروع ہوگا، جس میں 19 میٹنگیں ہوں گی۔ این ڈی اے کئی اہم بل خصوصی طورپر خواتین ریزرویشن سمیت کئی ترمیمی بل لائے گی۔ علاقائی پارٹی میں پھوٹ اور اسپیکر کے فیصلوں سے بھی سیاسی ماحول گرم ہونے کا امکان ہے۔

اسدالدین اویسی نے کہا، "کیا آپ (حکومت) نے چین سے پوچھا کہ اس نے پاکستان کو ہتھیار کیوں دیے؟ کیا چین نے ہمیں جنگ بندی کرنے کا کہا؟ پاکستان نے ہمارے پائلٹس کی بات کیسے سنی؟ اور اگر پاکستان سے جنگ بندی ہوئی تو اعلان امریکی صدر کرنے والا کون ہوتا ہے۔

آج21 جولائی 2025 کو دھنکڑ نے صحت کے مسائل کی وجہ سے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جو انہوں نے آئین کے آرٹیکل 67(ک) کے تحت دیا۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں انہیں سینے میں درد اور بے چینی کی وجہ سے دہلی کے ایمس میں داخل کیا گیا تھا۔

یہ اجلاس مودی حکومت کے تیسرے دور کی چوتھی پارلیمانی نشست ہوگی۔ اس سے قبل مانسون سیشن 2024، سرمائی اجلاس 2024 اور بجٹ اجلاس 2025 کئی اہم سیاسی اور قانون سازی کے لمحات کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔

پہلے بھی کانگریس نے زور دے کر کہا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کے معاملے کو اٹھاتی رہے گی، جہاں وہ عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد میں اقتدار میں ہے۔

حکومت نے اس اجلاس سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک آل پارٹی میٹنگ بھی منعقد کی، جس میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مؤثر کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ان سے تعاون کا مطالبہ کیا گیا۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس میٹنگ ان اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کیا جو وہ اجلاس کے دوران اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن میں پہلگام دہشت گردانہ حملہ، آپریشن سندور اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ تبصرے وغیرہ شامل ہیں۔