نئی دہلی: پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہونے کا امکان ہے، جو13 اگست تک جاری رہ سکتا ہے۔ تقریباً چارہفتوں پرمشتمل اس اجلاس میں 19 نشستیں (میٹنگ) ہونے کی توقع ہے۔ اجلاس سے قبل لوک سبھا کی نشستوں کی ترتیب (سیٹنگ پلان) میں بھی تبدیلیاں دیکھنے کومل سکتی ہیں۔ اس کی وجہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں مبینہ بغاوت، شیوسینا (ادھوٹھاکرے گروپ) کے 6 اراکینِ پارلیمنٹ کی بغاوت اورڈی ایم کے سمیت انڈیا الائنس میں ہونے والی سیاسی تبدیلیاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اجلاس شروع ہونے سے پہلے لوک سبھا اسپیکرٹی ایم سی کے 20 باغی اراکیین کے این سی پی آئی میں انضمام سے متعلق فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح شیوسینا (ادھو گروپ) کے 6 اراکین کے شیوسینا (شندے گروپ) میں شامل ہونے کے معاملے پربھی فیصلہ متوقع ہے۔ ڈی ایم کے اورٹی ایم سی کے باغی اراکین کی لوک سبھا میں الگ بیٹھنے کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، این ڈی اے، جو دوتہائی اکثریت کے قریب پہنچ چکی ہے، اجلاس میں کئی اہم بل پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ حکومت دواہم آئینی ترمیمی بل بھی لا سکتی ہے۔ ان میں خواتین کے لئے ریزرویشن اورحلقہ بندی (حد بندی) سے متعلق 131واں آئینی ترمیمی بل شامل ہوسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس بل میں ایک اہم ترمیم کی جا سکتی ہے، جس کے تحت لوک سبھا اورریاستی اسمبلیوں کی نشستوں میں 50 فیصد اضافے کی تجویزشامل کئے جانے کا امکان ہے۔
مانسون سیشن میں کون سے بل ہوں گے پیش؟
اس کے علاوہ 130ویں آئینی ترمیمی بل کوبھی اجلاس میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس بل میں تجویزہے کہ اگروزیراعظم، وزیراعلیٰ یا کوئی وزیر30 دن سے زیادہ مدت کی سزا پاتا ہے تووہ اپنے عہدے پربرقرارنہیں رہ سکے گا۔ اس معاملے پرقائم جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) اپنی رپورٹ میں کچھ اہم ترامیم تجویزکرسکتی ہے، جن میں یہ واضح کرنے کی سفارش شامل ہوسکتی ہے کہ کن قوانین کے تحت سزا ہونے پرعہدہ ختم ہوگا۔ ساتھ ہی قانون کے غلط استعمال کوروکنے کے لئے بھی حفاظتی تجاویزدی جا سکتی ہیں۔ حکومت “ایک ملک، ایک انتخاب” (ون نیشن، ون الیکشن) سے متعلق بل کوبھی منظورکرانے کی کوشش کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی آراے بل، وکست بھارت ایجوکیشن فاونڈیشن بل، اینٹی ڈوپنگ بل، سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق بل، کوڈ آن ویجزسینٹرل رولز، کارپوریٹ لا اورسیکیورٹیزمارکیٹ کوڈ جیسے بل بھی اجلاس میں پیش کئے جا سکتے ہیں۔
اپوزیشن بھی ان موضوعات پرحکومت کو گھیرنے کے لئے تیار
دوسری جانب، اپوزیشن ملک کے مختلف حصوں میں کم بارش کی وجہ سے خشک سالی اوربعض علاقوں میں شدید بارش سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال پربحث کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن نیٹ (نیٹ) امتحان کا پرچہ لیک ہونے، رام مندرمیں چڑھاوا کی مبینہ چوری، مہنگائی، پٹرول اورڈیژل کی قیمتوں، بے روزگاری، علاقائی سیاسی پارٹیوں میں ٹوٹ پھوٹ اوراس میں حکومت کے مبینہ کردارجیسے معاملات پربھی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی۔ ووٹرلسٹ کی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) کا معاملہ بھی پارلیمنٹ میں اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ تاہم مغربی بنگال اورآسام میں حالیہ انتخابی کامیابیوں کے بعد بی جے پی کافی پُراعتماد نظرآرہی ہے اور انڈیا الائنس میں مبینہ اختلافات کوبنیاد بنا کراپوزیشن کونشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیارکرسکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


