Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی پوسٹر وار تیز ہوگئی ہے۔ لکھنؤ کے کئی چوراہوں پر لگائے گئے ’سناتن بھارت کے مخالف راون‘ پوسٹروں میں اکھلیش یادو، راہل گاندھی اور عتیق احمد سمیت کئی معروف شخصیات کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔

گوا میں راہل گاندھی نے ووٹ چوری کے الزامات کو لے کر الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف ہتک عزت کے 45 سے زیادہ مقدمات چل رہے ہیں، لیکن ووٹ چوری کا الزام لگانے کے باوجود اب تک اس معاملے میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ راہل گاندھی کے مطابق، اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اگر اس معاملے میں قانونی کارروائی شروع ہوئی تو الزام لگانے والوں کو بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

راہل گاندھی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو لے کر بھی جارحانہ انداز میں نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ ملک کی نوجوان نسل اور مستقبل کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی نے کارکنوں کو ’ببر شیر‘ قرار دیا۔انہوں نے این ایس یو آئی کارکنوں کی پٹی بندھی انگلیوں کے ذریعے کیے گئے علامتی احتجاج اور یوتھ کانگریس کے ’گھوسٹ پروٹیسٹ‘ جیسے منفرد طریقوں کی بھی بھرپور تعریف کی۔

مظاہرے کے دوران پولیس پر مار پیٹ کا الزام لگانے والی کیرالہ کی قانون کی طالبہ اتھیرا وجین کی شکایت پر زیرو ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اتھیرا دہلی یونیورسٹی کی طالبہ اور این ایس یو آئی کی کارکن ہیں۔شکایت کے مطابق، اتھیرا نے الزام لگایا ہے کہ دہلی پولیس کے اہلکاروں نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی، جس سے ان کے جسم کے کئی حصوں پر چوٹیں آئیں۔ ان کا دہلی کے ہارڈنگ اسپتال میں علاج جاری ہے۔

کانگریس لیڈر نے صدر دروپدی مرمو سے دشیانت گوتم کی تقرری پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی، کہا کہ انکیتا کے والدین کی انصاف کی امید نہ ٹوٹنے دیں۔ راہل گاندھی نے والدین کو حراست میں لیے جانے پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔

انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے اور دشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے کے خلاف ان کے والدین دہلی کے انڈیا گیٹ پر دھرنا دے رہے ہیں۔ اسی دوران کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے ان سے ملاقات کی اور ان کی جدوجہد میں ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران این ایس یو آئی کارکنوں کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کا معاملہ اٹھایا۔ طلبہ نے حراست میں لینے، پٹائی کرنے اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کیے۔

راہل گاندھی نے پولیس اہلکاروں کے مبینہ تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تمام طلبہ سے کہا ہے کہ وہ واقعات کی ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ رکھیں اور ثبوت انہیں بھیجیں۔ ان کے مطابق، جب یہ معاملہ مکمل طور پر سامنے آجائے گا تو ان ثبوتوں کی مدد سے قصورواروں کے خلاف کارروائی یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا، ’’جب یہ پورا معاملہ ختم ہوگا تو ہم ان تمام ثبوتوں کا استعمال کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جسے سزا ملنی چاہیے،

وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ ’چوکیدار چور ہے‘ تبصرے سے متعلق فوجداری ہتک عزت کیس میں سپریم کورٹ نے راہل گاندھی کو راحت دیتے ہوئے نچلی عدالت کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی۔ عدالت نے مہاراشٹر حکومت اور شکایت کنندہ سے جواب طلب کیا ہے۔

دہلی میں اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی لڑائی جاری رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں متحد ہیں اور جمہوری عمل کی بحالی کے لیے آخری دم تک جدوجہد کریں گی۔