’’میں مسلمان ہوں اور بی جے پی کو ہرانا بھی چاہتا ہوں…‘‘، کانگریس میں شامل ہونے کے بعد عاصم وقار کا بیان
راہل گاندھی کو مستقبل کا وزیر اعظم قرار دیتے ہوئے عاصم وقار نے کہا کہ مجھے یہ بات بہت عرصے سے معلوم ہے۔ میں گزشتہ 5 سال سے یہ کہہ رہا ہوں کہ ملک کے مستقبل کے وزیر اعظم راہل گاندھی ہیں۔
Abu Azmi on Muslims Conditions in India: برقع سے مسجد تک، مسلمانوں کے مسائل پر پھٹ پڑے ابو عاصم اعظمی، کہا- اب پانی سر سے اونچا ہو چکا
سماج وادی پارٹی کے لیڈر ابو عاصم اعظمی نے نے دودھ کی قیمت بڑھنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بچوں کے منہ سے دودھ کا پیالہ چھینا جا رہا ہے۔ سی این جی کی قیمت بڑھ رہی ہے اور تمام اشیا مہنگی ہو رہی ہیں، لیکن لوگوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو رہا۔
Delhi Bus Gang-Rape: سلیپر بس میں طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا معاملہ، راہل گاندھی نے دہلی اور یوپی پولیس کی جواب دہی پر اٹھائے سوال
راہل گاندھی نے مزید سوال کیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے نظام کو درست کرنے سے پہلے مزید کتنی خواتین اور لڑکیوں کو ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت والی دہلی پولیس اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی اتر پردیش پولیس کی جواب دہی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا اس معاملے میں کسی کی جواب دہی طے ہوگی؟ ان کے مطابق، ’’بالکل نہیں، اس جرم پر بھی پردہ ڈال دیا جائے گا۔‘‘
FIR Against Rahul Gandhi: راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر پر کانگریس ناراض، اتراکھنڈ سے دہلی تک احتجاج، بی جے پی بھی حملہ آور
کانگریس کا سوال ہے کہ جن لوگوں نے ’شدھی کرن‘ کیا، ان کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ اس معاملے کو لے کر کانگریس نے ریاست سے لے کر قومی دارالحکومت دہلی تک احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ راہل گاندھی کے خلاف درج شکایت واپس لینے کے مطالبے کو لے کر 200 سے زائد کانگریسی کارکنان نے دہرادون میں پولیس ہیڈکوارٹر تک مارچ کیا اور اتراکھنڈ کے پولیس ڈائریکٹر جنرل دیپم سیٹھ کو میمورنڈم بھی پیش کیا۔
Rahul Demands Registration of FIR:’ملیکارجن کھڑگے کی سبھا کے بعدشدھی کرن پرSC/STایکٹ کے تحتFIRدرج ہو‘،راہل کا مطالبہ
راہل گاندھی نے کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کی اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ہوئی سبھا کے بعد مبینہ طور پر کیے گئے شدھی کرن کے معاملے کو بھی اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف ایس سی اور ایس ٹی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
GIVA Ad Controversy: کِریتی سینن کے رکشا بندھن اشتہار پر مچا ہنگامہ، جیولری برانڈ GIVA نے اشتہار لیا واپس
زیورات کے برانڈ کے اشتہار سے متعلق بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ اور اداکارہ کنگنا رناوت نے کِریتی کے لباس پر تنقید کی۔ کنگنا نے سوال اٹھایا کہ جب خواتین کے پاس روایتی اور جدید لباس کے اتنے اختیارات موجود ہیں تو بھائی کو راکھی باندھنے کے لیے مبینہ طور پر انتہائی مختصر لباس کا انتخاب کیوں کیا گیا۔
Rahul Gandhi’s Program Chhatron Ki Gonj:کیا آرایس ایس کے گڑھ میں ہنکاربھریں گے راہل؟ ناگپورمیں ہوسکتا ہے’چھاتروں کی گونج‘ کا اگلا پروگرام
کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے تحت ملک بھر میں طلبہ سے مکالمہ کر رہے ہیں، پونے میں پروگرام کے بعد اب ناگپور میں تیاری، بی جے پی اور آر ایس ایس پر سیاسی حملے کی حکمت عملی بھی شامل
Sanjay Raut: سنجے راوت کے بیان سے مچی سیاسی ہلچل؟ پی ایم مودی اور راہل گاندھی پر بڑا دعویٰ
سنجے راوت نے ’ون نیشن، ون الیکشن‘ کے معاملے پر بھی این ڈی اے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس تجویز پر چاہے جتنی میٹنگز، بحث یا غور و فکر کرلیا جائے، 2029 میں موجودہ حکمران اتحاد کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات نہیں ہیں۔ ان کے اس دعوے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
Rahul Gandhi’s ‘Chhatron Ki Goonj’ event:خواتین ملک کی طاقت،منوسمرتی میں ان کی غلط تشریح…’چھاتروں کی گونج‘میں بولے راہل گاندھی
انہوں نے کہا کہ ’منوسمرتی‘ میں کہا گیا ہے کہ لڑکی بچپن میں اپنے والد کی ملکیت ہوتی ہے، جوانی میں اپنے شوہر کی اور بڑھاپے میں اپنے بچوں کے لیے جیتی ہے۔ لیکن یہ باتیں شرمناک ہیں۔ ہماری خواتین کو آزاد ہونا چاہیے۔ آپ کسی پر منحصر نہیں ہیں۔ والد، شوہر اور بیٹے کے ساتھ آپ کے رشتے ہیں، لیکن آپ کی شناخت ان سے طے نہیں ہوتی۔ آپ کی اپنی شناخت ہے۔
BJP attacks Rahul’s program:’چھاتروں کی گونج‘یا’پیسے کی گونج‘؟پونے میں راہل کے پروگرام پر بی جے پی کا حملہ
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نوجوانوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ تیار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت کے بعد پارٹی نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی اور اہم ٹیم تشکیل دی ہے، جو ملک کی یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں جاکر نوجوانوں کے مسائل اور خدشات کو سمجھنے کی کوشش کرے گی۔





