Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

راہل گاندھی کا ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام 22 اگست کو پونے میں منعقد ہونا ہے۔ پروگرام کے سلسلے میں پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی کئی شرائط عائد کی گئی ہیں۔ ایسے وقت میں پروگرام سے محض ایک روز قبل یونیورسٹی کیمپس میں جھڑپ کا واقعہ پیش آنے سے سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ طلبہ تنظیموں کے درمیان کسی تنازع کے بعد صورتحال نے کشیدہ رخ اختیار کیا۔

 کانگریس لیڈر راہل گاندھی اورکانگریس لیڈران کے دھرنے کے بعد دہلی پولیس پیلیٹ گن معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے جا رہی ہے۔ لیڈران نے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

19 سالہ ساحل لوچب کا الزام، دہلی پولیس شکایت کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کررہی، راہل گاندھی نے پولیس سے اب تک کی کارروائی کی رپورٹ طلب کی

راہل گاندھی امرتسر میں دربار صاحب میں حاضری دینے کے بعد پنجاب کانگریس کے تمام بڑے لیڈروں کے ساتھ بس یاترا کریں گے۔ ذرائع کے مطابق راہل گاندھی کی یہ بس یاترا امرتسر سے شروع ہوکر حسین والا تک تقریباً 135 کلومیٹر کا سفر طے کرسکتی ہے۔

پنجاب اسمبلی انتخابات سے پہلے کانگریس نے ریاستی تنظیم کو لے کر صورتحال واضح کر دی ہے۔ پارٹی نے ریاستی قیادت میں تبدیلی کی قیاس آرائیوں پر روک لگاتے ہوئے اب تنظیم کی توسیع پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی نئی ٹیم کے ساتھ تیاری میں مصروف، کانگریس میں کئی اہم عہدے خالی، پریانکا گاندھی کی تنظیمی ذمہ داری پر بھی ابہام اور ریاستی سطح پر اختلافات نے پارٹی کی مشکلات بڑھائیں

آچاریہ پرمود کرشنم نے جھارکھنڈ میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی پر راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو جھارکھنڈ جاکر طلبہ کی پریشانیوں کو سمجھنا چاہیے اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے بات کرنی چاہیے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کے فصیل سے 80ویں یوم آزادی تقریب میں ملک کو خطاب کیا۔ وہیں اس بار بھی کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے، سابق صدر اور ایم پی راہل گاندھی نے شرکت نہیں کی۔

سنجے جیسوال نے 29 جولائی کو دیے گئے اپنے علیحدہ خط میں راہل گاندھی کی جانب سے مبینہ طور پر غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال کا نوٹس لینے اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے راہل گاندھی کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا ہے کہ وہ 28 اگست تک اس معاملے میں اپنا جواب یا تبصرہ پیش کریں تاکہ اسے لوک سبھا اسپیکر کے غور کے لیے پیش کیا جاسکے۔

سوشل میڈیا پر راہل گاندھی کے ایک مبینہ بیان کے سلسلے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بھارت میں اٹلی کے سفارتخانے نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں پھٹکار لگائی ہے۔ تاہم، اس دعوے سے متعلق سامنے آنے والی فیکٹ چیک رپورٹس کے مطابق اٹلی کے سفارتخانے کی جانب سے ایسی کوئی باضابطہ مذمت یا بیان جاری نہیں کیا گیا۔ وائرل پوسٹ مبینہ طور پر ایک جعلی اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی تھی، جس نے خود کو اٹلی کا سفارتی اکاؤنٹ ظاہر کیا تھا۔