Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

ووٹ چوری کے الزامات اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے دہلی میں مارچ نکالا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کے اس احتجاج میں بڑی تعداد میں کارکنوں اور شہری تنظیموں کے ارکان نے شرکت کی۔ مارچ کی قیادت اپوزیشن کے سینئر رہنماؤں نے کی۔مظاہرین نے جھنڈے اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔

راہل گاندھی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ جب تک عرضی میں اٹھائے گئے اہم سوالات پر غور کرکے فیصلہ نہیں کرلیا جاتا، تب تک تمام ریاستوں میں جاری خصوصی گہری نظرثانی کے عمل پر عبوری روک لگائی جائے۔

مرکزی وزیر مملکت کا الزام، بار بار مارچ اور ریلیوں سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا؛ کہا، ’کتنا بھی احتجاج کرلیں، گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیں گے‘

راہل گاندھی کی قیادت میں ممتا بنرجی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو سمیت کئی رہنما احتجاج میں شامل۔ ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں پر عرضی، 10 رہنما سپریم کورٹ میں کریں گے دستخط۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ وہ ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں سے متعلق اپنے اعتراضات کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے اور اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کا مارچ، راہل گاندھی سمیت کئی لیڈر سپریم کورٹ پہنچے

راہل گاندھی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ کے دفتر نے ان کے بیان کی تردید نہیں کی۔  انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کی لڑائی طویل عرصے تک جاری رہے گی۔

دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور متعدد مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی ہے۔ حفاظتی وجوہات کی بنا پر 12 اکتوبر کو شام 4 بجے تک کچھ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلے اور خارجی راستے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے کانگریس لیڈروں راہل گاندھی، ملیکارجن کھڑگے اور دیگر لیڈروں کو پیر، 12 اکتوبر کو ملاقات کا وقت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر راہل گاندھی اور کھڑگے اس معاملے پر اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں تو وہ عدالت میں عرضی دائر کر سکتے ہیں۔

سی ای سی گیانیش کمار کے استعفے اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف 12 اکتوبر کو مارچ کا اعلان، ایس آئی آر عمل روکنے کا بھی مطالبہ کیا جائے گا۔

حکومت نوجوانوں اور طلبہ کی آواز دبانے کی جتنی کوشش کرے گی، نئی نسل کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔کانگریس لیڈر نے اعلان کیا کہ 12 اکتوبر کو کانگریس سمیت انڈیا اتحاد کی جماعتیں اور ملک کے نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں گے۔ ان کے مطابق، اس بار احتجاج کی آواز پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ پورے ملک میں سنائی دے گی۔