Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi

مرکزی وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے سڑکوں پر احتجاج نہیں بلکہ انتخابی میدان میں مقابلہ کرنا ہوگا۔

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آواز دبانے میں گیانیش کمار کا کردار رہا ہے اور اسی وجہ سے وہ رات کو سکون سے سو نہیں پا رہے ہوں گے۔

راہل گاندھی نے بی جے پی پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہلی کے اہم تجارتی علاقے کناٹ پلیس میں کئی دکانیں زبردستی بند کرائی گئیں، جس سے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔

راہل گاندھی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ لوگوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ مارچ اور مہاریلی میں شرکت کے لیے آئیں تو خریداری بھی کریں۔ تاہم، کناٹ پلیس پہنچنے پر انہیں دکانیں بند ہونے کی اطلاع ملی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس صورت حال میں تاجروں کا نقصان کون کر رہا ہے اور یہ نقصان کس طرح ہو رہا ہے، اس کا اندازہ عوام خود لگا سکتے ہیں۔

دہلی ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریلی کے دوران متاثرہ راستوں پر جانے سے گریز کریں اور کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے متبادل راستوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔

 ریلی میں شرکت کرنے والوں کو صرف مقررہ دروازوں سے داخلے کی اجازت ہوگی، جہاں میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے ان کی تلاشی لی جائے گی۔ حکام کا اندازہ ہے کہ رام لیلا میدان میں 45 ہزار سے 50 ہزار افراد کے آنے کی گنجائش ہے، لیکن کرسیاں لگانے، حفاظتی حصار بنانے اور آمد و رفت کے راستے مختص کرنے کے بعد تقریباً 30 ہزار سے 40 ہزار افراد کے جمع ہونے کی توقع ہے۔بھیڑ کو بے قابو ہونے اور بھگدڑ جیسی صورتحال سے بچانے کے لیے میدان میں اضافی جگہ بھی خالی رکھی جائے گی۔ ا

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب سے علامتی ’عوامی مواخذے‘ کی تجویز منظور کیے جانے کے اگلے روز، اتوار کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں اتحاد کی ایک بڑی ریلی منعقد ہونے جا رہی ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا ’’راہل بابا، میں آپ دونوں، یعنی آپ اور اکھلیش یادو کو یہیں اور ابھی چیلنج کرتا ہوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ آئیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلاتے ہیں، لیکن ان کا وہاں بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دیتے، بلکہ ہنگامہ آرائی کرتے ہیں۔‘‘

اپنے خطاب میں امیت شاہ نے کانگریس رہنما راہل گاندھی اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے رہنما مسلسل بی جے پی پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن انہیں عوام کے درمیان اپنے کام کاج کا حساب بھی دینا چاہیے۔شاہ نے دعویٰ کیا کہ اکھلیش یادو کی قیادت میں سماج وادی پارٹی مسلسل انتخابات میں شکست کا سامنا کر رہی ہے،

تاجروں نے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کی مثال بھی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس روز صرف 5 سے 7 ہزار افراد کے جمع ہونے سے وسطی دہلی میں 8 گھنٹے تک ٹریفک جام رہا تھا۔ اب جب 10 لاکھ لوگوں کی آمد کا امکان ہے تو حالات کس قدر سنگین ہو سکتے ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔