Bharat Express DD Free Dish

Mamata Accuses Delhi Police of Abduction: ممتا بنرجی کا دہلی پولیس پر ’اغوا‘ کرنے کا الزام، تھانے میں دھرنے پر بیٹھیں

ٹی ایم سی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ممتا بنرجی کو دہلی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے حراست میں لے لیا ہے۔ وہ منہ پر بینڈیج لگا کر احتجاج کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق، منہ پر بینڈیج لگانا ان کی آواز دبانے کی کوششوں کے خلاف علامتی احتجاج تھا۔

نئی دہلی: مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز دہلی میں حراست میں لیے جانے کے بعد پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اور ان کے ساتھ موجود چار ارکان پارلیمنٹ کو حراست میں لے کر دو گھنٹے تک پولیس کی جیل وین میں گھمایا گیا۔ ممتا بنرجی نے اعلان کیا کہ وہ ہفتہ کی رات کولکاتا واپس نہیں جائیں گی اور احتجاجاً پیر کو اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ (I.N.D.I.A.) کے مارچ میں شرکت کریں گی۔

چار ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ تھانے میں دھرنا

ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے اپنے چار ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ دوارکا نارتھ پولیس اسٹیشن میں دھرنا شروع کر دیا ہے، جہاں ہمیں لایا گیا ہے۔ ہمارا اغوا کیا گیا اور دو گھنٹے تک جیل وین میں گھمایا گیا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ آج رات کولکاتا واپس نہیں جائیں گی۔ ممتا بنرجی نے نوجوانوں اور دیگر مظاہرین کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پیر کو اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے مارچ میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

منہ پر بینڈیج لگا کر احتجاج

اس سے قبل ٹی ایم سی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ممتا بنرجی کو دہلی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے حراست میں لے لیا ہے۔ وہ منہ پر بینڈیج لگا کر احتجاج کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق، منہ پر بینڈیج لگانا ان کی آواز دبانے کی کوششوں کے خلاف علامتی احتجاج تھا۔

بس میں ’مہیشاسور مردنی‘ کا پاٹھ

احتجاج کے دوران ممتا بنرجی کے ایک بس میں موجود ہونے کی ویڈیوز بھی سامنے آئیں۔ بس کے اندر وہ ’مہیشاسور مردنی‘ کا پاٹھ کرتی دکھائی دیں۔ انہوں نے ’جاگو درگا، جاگو دش پرہرن دھارنی‘ اور ’ابھیا شکتی بل پرداینی‘ جیسی سطریں بھی گائیں۔ یہ ’مذہبی استوتر‘ مغربی بنگال میں درگا پوجا کے دوران خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور اسے طاقت اور انصاف کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

پرینکا گاندھی کا مرکز پر حملہ

اس واقعے پر کانگریس کی جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے 254 ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ دھکا مکی کی گئی اور انہیں غیر قانونی طریقے سے حراست میں لیا گیا، جس سے ان کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔ ان کے مطابق، اپوزیشن جماعتوں کے دیگر مظاہرین کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک کیا گیا۔

دہلی میں ناکہ بندی کا دعویٰ

پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ اس کے بعد قومی دارالحکومت کی ناکہ بندی کر دی گئی، مختلف مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی اور شہر کے تمام راستوں پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرینیں اور میٹرو روک دی گئیں، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا اور مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کی گئیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ آئینی حق کے تحت احتجاج کرنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور انہیں حراست میں لیا گیا۔

کیا یہ حکومت کے خوف کا ثبوت نہیں؟

پرینکا گاندھی نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت نہیں ہیں کہ الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے انتخابات میں دھاندلی کی گئی اور حکومت اپنی قانونی حیثیت پر اٹھنے والے سوالات اور جواب دہی کے مطالبات سے خوف زدہ ہے، تو پھر اور کیا ہے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان اب جمہوریت نہیں رہا، بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں آمریت چل رہی ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے میں حکومت کا ساتھ دینے والے تمام افراد ملک کے خلاف غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

سی جے پی کے بانی بھی زیر حراست

اس سے قبل ہفتہ کی صبح خبر سامنے آئی تھی کہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دپکے، ترجمان سورَو داس اور آشو توش رانکا کو دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حراست میں لے لیا گیا۔ یہ تینوں احتجاج میں شرکت کے لیے دہلی پہنچے تھے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read