Bharat Express DD Free Dish

India bloc

امت شاہ نے منشیات کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت 31 دسمبر 2029 تک پنجاب سمیت پورے ملک کو منشیات کی لعنت سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی ملک کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال ایس آئی آر سے متاثر ہونے والی ریاست رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم جان دے دیں گے، لیکن لڑیں گے۔ ہمارے بنگال میں لوٹ ہوئی، لیکن اب دہلی میں لوٹ نہیں ہونے دیں گے۔

دوسری جانب بی جے پی نے بھی مغربی دہلی میں جوابی مارچ کا اہتمام کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ مارچ 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے متاثرین کی یاد میں نکالا جا رہا ہے۔ بی جے پی نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ فسادات کی برسی کے موقع پر سیاسی ریلی منعقد کر رہی ہے۔

اتر پردیش قانون ساز کونسل کی 11 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں بی جے پی نے چھ اور سماج وادی پارٹی نے پانچ نشستیں حاصل کیں۔ بی جے پی نے آگرہ گریجویٹس، بریلی-مرادآباد ٹیچرس، لکھنؤ ٹیچرس، میرٹھ ٹیچرس، میرٹھ گریجویٹس اور گورکھپور-فیض آباد ٹیچرس حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ وہیں سماج وادی پارٹی نے الہ آباد-جھانسی گریجویٹس، وارانسی ٹیچرس اور آگرہ-علی گڑھ ٹیچرس حلقوں میں کامیابی درج کی۔

یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی ریلی، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بھی حمایت کا اعلان کیا

تاجروں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا 31 اکتوبر سے ہی بیریکیڈنگ شروع کر دی جائے گی؟ کیا راجدھانی کی کئی اہم سڑکیں بند ہوں گی؟ اور کیا گاہکوں کو بازاروں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا؟ان کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس رہنماؤں کا یہ اندازہ درست ہے کہ ریلی میں 10 لاکھ افراد اور 15,000 سے 20,000 گاڑیاں شامل ہوں گی تو اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی پارکنگ کا انتظام کہاں کیا جائے گا؟

کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ صرف ووٹ بچانے کی لڑائی نہیں، بلکہ آئین اور جمہوریت کو بچانے کی عوامی جدوجہد ہے۔ انہوں نے ملک کے تمام بیدار شہریوں سے اپیل کی کہ وہ یکم نومبرکو دہلی پہنچیں او رام لیلا میدان میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ مارچ اورمہا ریلی میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ ریلی کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ بلاک اپنے احتجاج کو وسیع تحریک میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ سڑکوں پر مظاہروں اور سپریم کورٹ میں قانونی لڑائی کے بعد اپوزیشن نومبر میں ایک بڑی ریلی کے ذریعے اس معاملے کو قومی سطح پر اٹھانے کی تیاری کر سکتی ہے۔

راہل گاندھی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ جب تک عرضی میں اٹھائے گئے اہم سوالات پر غور کرکے فیصلہ نہیں کرلیا جاتا، تب تک تمام ریاستوں میں جاری خصوصی گہری نظرثانی کے عمل پر عبوری روک لگائی جائے۔

راہل گاندھی کی قیادت میں ممتا بنرجی، اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو سمیت کئی رہنما احتجاج میں شامل۔ ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں پر عرضی، 10 رہنما سپریم کورٹ میں کریں گے دستخط۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ وہ ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں سے متعلق اپنے اعتراضات کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے اور اس معاملے پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔