Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav slams BJP: سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کا بی جے پی پر طنز، کہا-’’ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی کو ’ڈبل زیرو‘ ملا‘‘

اتر پردیش قانون ساز کونسل کی 11 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں بی جے پی نے چھ اور سماج وادی پارٹی نے پانچ نشستیں حاصل کیں۔ بی جے پی نے آگرہ گریجویٹس، بریلی-مرادآباد ٹیچرس، لکھنؤ ٹیچرس، میرٹھ ٹیچرس، میرٹھ گریجویٹس اور گورکھپور-فیض آباد ٹیچرس حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ وہیں سماج وادی پارٹی نے الہ آباد-جھانسی گریجویٹس، وارانسی ٹیچرس اور آگرہ-علی گڑھ ٹیچرس حلقوں میں کامیابی درج کی۔

نئی دہلی: سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اتوار کو دہلی کے رام لیلا میدان میں اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کی ’چلو دہلی‘ ریلی میں شرکت سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت حملہ کیا۔ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے حالیہ دو سالہ انتخابات کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بی جے پی کے ’ڈبل انجن‘ کے نعرے پر طنز کیا اور کہا کہ پارٹی کو ’ڈبل زیرو‘ اور ’دوہری شکست‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اکھلیش نے اہم حلقوں میں ووٹوں کی گنتی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دوبارہ گنتی کے معاملے پر بھی سوال اٹھائے۔

’ڈبل انجن‘ سے ’ڈبل زیرو‘ تک: اکھلیش کا طنز

اکھلیش یادو نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نشانہ بناتے ہوئے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ سے لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے خود کہا ہے کہ 1.27 کروڑ ووٹ کم ہوئے ہیں، لیکن یہ بات انہیں ایم ایل سی انتخابات میں شکست کے بعد یاد آئی۔ اکھلیش یادو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ’ڈبل انجن‘ کی بات کرتے تھے، انہیں اسی انتخاب میں ’ڈبل زیرو‘ ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے پہلی بار شکست قبول کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت کرکے دوبارہ گنتی کرائی۔ ان کے مطابق، اسی انتخاب میں ’ڈبل انجن‘، ’ڈبل زیرو‘ اور ’دوہری شکست‘ تینوں صورتیں دیکھنے کو ملیں۔ انہوں نے ووٹر لسٹ سے 1.27 کروڑ ووٹ کم ہونے کے دعوے کی بنیاد پر بھی سوال اٹھایا۔

ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی کو چھ، ایس پی کو پانچ سیٹیں

اتر پردیش قانون ساز کونسل کی 11 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں بی جے پی نے چھ اور سماج وادی پارٹی نے پانچ نشستیں حاصل کیں۔ بی جے پی نے آگرہ گریجویٹس، بریلی-مرادآباد ٹیچرس، لکھنؤ ٹیچرس، میرٹھ ٹیچرس، میرٹھ گریجویٹس اور گورکھپور-فیض آباد ٹیچرس حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ وہیں سماج وادی پارٹی نے الہ آباد-جھانسی گریجویٹس، وارانسی ٹیچرس اور آگرہ-علی گڑھ ٹیچرس حلقوں میں کامیابی درج کی۔ اکھلیش نے ووٹر لسٹ میں کمی سے متعلق اعداد و شمار کے ماخذ پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا ڈیٹا نہیں ہے جو کہیں سڑک پر پڑا مل جائے یا کسی عام شخص سے حاصل کر لیا جائے۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے اور کس نے فراہم کیے۔ اکھلیش یادو نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ لاکھوں سرکاری اسکیموں کے مستفیدین کے نام ووٹر لسٹ میں موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو ان لوگوں کو بھی رام لیلا میدان آنا چاہیے، کیونکہ یہ تحریک مبینہ جھوٹے وعدوں اور محروم طبقات کے ساتھ ناانصافی کے خلاف ہے۔

’چلو دہلی‘ ریلی میں اپوزیشن رہنماؤں کی شرکت متوقع

انڈیا بلاک کی ’چلو دہلی‘ ریلی ایک روز قبل کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی رہائش گاہ پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف منعقدہ علامتی مواخذے کے پروگرام کے بعد ہو رہی ہے۔ ریلی میں راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے، ممتا بنرجی، ابھیشیک بنرجی، ہیمنت سورین، ریونت ریڈی اور تیجسوی یادو سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں کی شرکت متوقع تھی۔ کانگریس کی رکن پارلیمنٹ سنجنا جاٹو نے کہا کہ ملک بھر سے نوجوان اور خواتین جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے رام لیلا میدان میں جمع ہوں گے۔ ان کے مطابق، راہل گاندھی، اراکین پارلیمنٹ اور عوام جمہوری نظام اور آئین کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔ کانگریس رہنما شکیل احمد خان نے کہا کہ اس پیغام کو عام کرنے کے لیے دہلی کے مختلف حصوں سے ایک لاکھ افراد مارچ میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کھڑگے کی رہائش گاہ پر منعقدہ علامتی مواخذے کے پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے والے افراد نے وہاں اپنے تجربات بیان کیے۔ تلنگانہ کے وزیر اور سابق کرکٹر محمد اظہرالدین نے کہا کہ جب تک چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے، ’ووٹ چوری‘ کا معاملہ اٹھتا رہے گا۔ انہوں نے مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے ووٹوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قومی اہمیت کا معاملہ ہے اور راہل گاندھی نے اس پر مضبوط موقف اختیار کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read